پادگرد
کاور سفارشی خطوط
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

سفارشی خطوط

۸ دی ۱۴۰۱ · 26 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

شاہ محی الحق فاروقی مرحوم کے طنزیہ اور فکاہیہ مضامین کا پہلا مجموعہ 1993 میں شائع ہوا تھا اور اس کتاب کا عنوان تھا "کھٹے میٹھے انار " اس میں 10 ‌مضامین شامل تھے ۔ جن میں سے دو مضامیں یعنی "لڈرچے" اور "منکہ سابق عارضی مدیر" آپ پہلے ہی سن چکے ہیں آج اس مجموعہ مضامین کا تیسرا مضمون اس میں شامل ہے جس کا نام ہے "سفارشی خطوط" ۔ اس مضمون میں شاہ محی الحق فاروقی صاحب نے اپنے مخصوص فکاہیہ انداز میں سفارشی خطوط کی معاشرتی برائی کو اجاگر کیا ہے آپ کا کہنا ہے کہ غلط کاموں کے لیئے سفارشی خط لکھنا بھی دوسروں کا حق مارنے کا سبب بن سکتا ہے آپ کہتے ہیں کہ سفارشی خطوط بھی جھوٹی گواہی کی طرح ایک اخلاقی جرم ہیں اور چونکہ کوئی شریف آدمی جھوٹی گواہی دینا پسند نہیں کرتا ہے اس لیئے اسے سفارشی خطوط لکھنے سے بھی ہر قیمت پر احتراز کرنا چاہیئے اس مضمون کے اختتام میں فاروقی صاحب نے سفارشی خطوط کے سلسلے میں تاریخ برامکہ سے خلیفہ ہارون ارشید کے وزیر یحیی برمکی کا ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان یا ہے جن کے نام سے ایک شخص ایک جعلی سفارشی خط تحریر کر کے آرمینہ گے گورنر عبدللہ کے پاس لے گیا - اسے یہ تو معلوم تھا یحیی برمکی اور عبدللہ آپس میں بہت اچھے دوست تھے مگر اس کے علم میں یہ نہیں تھا کہ کسی معاملہ پر یحیی برمکی اور عبداللہ کے تعلقات اتنے خراب ہوگئی کہ خلیفہ ہارون الرشید کو ان دونوں کر الگ الگ کرنے کے لیئے عبداللہ کو آرمینیہ بھیجنا پڑا پھر ہوا یہ کہ وہ سفارشی خط عبدللہ نے اپنے دشمن یحیی برمکی کے پاس تصدیق کے لیئے بھیجا کہ کیاس یہ واقٰی آپ نے لکھا ہے - پھر کیا ہوا - یحیی برمکی نے اس شخص کے ساتھ کیا سلوک کیا جو ان کے مخالف بلکہ دشمن کے پاس ان کے نام سے ایک جعلی خط لے گیا تھا اور خود عبداللہ نے اس شخص کے ساتھ کیا سلوک کیا جو اس کو بیوقوف بنا کر اپنا کام کروانے کے لیئے ان کے ایک دشمن کا جعلی خط تحریر کر کے لے گیا تھا یہ دلچسپ قصہ بھی اس مضمون "سفارشی خطوط میں شامل ہے ۔ اس طویل مضمون کا دورانیہ کیونکہ 26 منٹ کے قریب ہے اسلیئے یہ مضمون یا تو آپ تمام کاموں سے فارغ ہو کر سنیئے گا اور اگر ایک نشست میں ممکن نہ ہو تو پھر اسے بند کرتے ہوئے وقت نوٹ کر لیئے گا تاکہ آپ اسے مکمل کر سکیں

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.