

شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
محمد صالح ایمن صاحب ایک معروف ادیب ہیں اور م ص ایمن کے قلمی نام سے اب تک نو ناول لکھ چکے ۔ انہوں نے اپنی اپنی زندگی کی دلچسپ کہانی سنائی " ذکر کتاب " کو اس انٹرویو میں ۔ چوالیس منٹ کے اس انٹرویو میں م ص ایمن صاحب نے اپنے بچپن کے کئی قصے بہت مزے لے لے کر سنائے اور بتایا کہ انہیں کہانیاں اور کتابیں پڑھنے کا شوق تیسری جماعت سے ہی ہوگیا تھا جب وہ کلاس میں چھپ چھپ کر وہ کتابیں پڑھا کرتے تھے جو ان کا ایک دوست لائبریری سے کرائے پر لے کراتا تھا ناولوں نگار نے بتایا کہ کتابیں پڑھنے کے اس شوق میں ان کا وہ دوست تیسری کلاس میں فیل ہو گیا تھا اپنی زندگی کے کئی گوشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے م ص ایمن صاحب نے بتایا کہ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ٹیلرنگ سے شروع کا کئی فنون میں۔ مہارت حاصل کی پھر انہوں نے شہرت حاصل کی بطور ایک ا چھے بڑھئی کی ہو گئی جس ہنر میں انہوں نے کمال فن حاصل کیا کئی ایوارڈ حاصل کیئے ایمن صاحب نے بتایا کہ وہ ایک زمانے جمعہ بازار میں ہفتے میں ایک دن ٹھیلہ بھی لگاتے تھے جس پر ہر مال دو روپے کے حساب سے بیچ کر وہ دن بھر میں اتنا کما لیتے تھے کہ شام کو روپے گننے کا انہیں وقت بھی نہیں ملتا تھا ۔ م ص ایمن صاحب نے ۔بتایا کہ جب انہیں لکھنے لکھانے کا شوق ہوا تو ان کی تحریر ایک معروف ہندوستانی جریدے میں دیکھ کر پاکستان کے ایک ادبی رسالے والے فرمائش کی کہ ان کے لیئے بھی کچھ لکھیں مگرا مسودہ منگوانے کے بعد بجائے انہیں معاوضہ دینے کے بجائے الٹا ان سے تیس ہزار روپے مانگے کہ ہم آپ کو مشہور کر دیں گے ۔ ایمن صاحب نے بتایا انہیں بہت حیرت ہوئی جب ان کے ایک ناول کو کسی نے نہ صرف یہ کہ پوری قیمت ادا کرکے خریدی بلکہ ساتھ میں انہیں عیدی بھی دی 44 منٹ کے اس طویل انٹرویو کے آخری پچیس منٹ انہوں نے کتابی دنیا کے مسایل پر کھل کر بات کی ایمن صاحب نے بتایا کہ پبلشرز اور بک سیلرز۔ مصنفین پر کتنا ظلم کرتے ہیں کہ ان کی کتابیں 60 سے لے کر ،65 فیصد ڈسکاونٹ پر ادھار خریدتے ہیں مگر مصننف کو بقیہ 35 سے چالیس فیصد کی ادائگی میں بھی تنگ کرتے ہیں پورا حساب نہیں دیتے ہیں اور مانگو تو وہ کتابیں بھی واپس نہیں کرتے ہیں جنھیں بقول ان کے اسٹاک میں موجود کتابوں کے ڈھیر میں تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے ناول۔ایمن صاحب کا کہنا ہے کہ مصنف کو کتاب لکھ کر اتنے پیسے بھی نہیں ملتے ہیں کہ وہ اپنا گھر چلا سکے یو ٹیوب ڈیسکریپشن میں ٹائم اسٹمپ لگا ہوا ہے جسے پریس کر کے آپ مطلوبہ گفتگو کو آسانی سے سن سکتے ہیں .
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.




