
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
شاہد احمد دہلوی صاحب دہلی میں 1906 میں پیدا ہوئے انہوں نے دہلی کی مٹتی ہوئی تہذیب کے نقوش اپنی آنکھوں سے دیکھے اور دہلی کے ان کرداروں کرداروں کو بھی اپنی آنکھ سے دیکھا جو وقت کی کے ساتھ ساتھ معدوم ہوگئے شاہد احمد دہلوی صاحب نے اپنے مضامین اور رسالہ ساقی سے دہلی کے ان کرداروں کو زندہ جاوید کر دیا پر محفوظ کر لیا ۔ آپ کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا آپ ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے تھے مگر آپ کو مشرقی موسیقی سے بہت لگاؤ تھا ۔ شاہد احمد دہلوی صاحب کو ادب اور موسیقی کی جڑواں محبوبائیں رکھنے والا منفرد ادیب بھی کہا جاتا ہے محترم عقیل عباس جعفری صاحب شاہد احمد دہلوی صاحب کے موسیقی کے موضوع پر لکھے ہوئے تیس مضامین کا ایک مجموعہ "مضامین موسیقی " کے نام سے مرتب کیا جس میں بارہ وہ نایاب مضامین بھی ہیں جو مشاہیر نے شاہد احمد دہلوی کے بارے میں لکھے تھے عقیل عباس صاحب کا کہنا ہے کہ ’ہماری بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ جو صاحبان فن موسیقی جانتے ہیں وہ لکھنا نہیں جانتے اور جو لکھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ موسیقی کی باریکیاں نہیں سمجھتے۔ شاہد احمد دہلوی نہ صرف یہ دونوں ہنر جانتے تھے بلکہ ان پی مکمل عبور بھی رکھتے تھے" آئیے شاہد احمد دہلوی کا ایک مضمون سنتے ہیں جس کا نام ہے " دہلی کے بھانڈ اور طوائفیں"
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
