
سچے واقعات- دروازے کی گھنٹی بجی 14 : یہ مولوی سالے ہوتے ہی بہت بے ایمان ہیں
۱۹ مرداد ۱۴۰۱ · 9 دقیقه
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
سچے واقعات کے سلسلے "دروازے کی گھنٹی بجی " میں ایک نیا قصہ پیش خدمت ہے " یہ مولوی سالے ہوتے بہت بے ایمان ہیں " یہ قصہ بالکل سچا ہے مگر کرداروں کے نام بدل دیئے گئے ہاں اس قصے کو عنوان میں نے نہیں دیا ہے کیونکہ میں دل کی گہرائی سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کوئی مولوی کبھی بھی بے ایمان نہیں ہو سکتے ہیں ہاں البتہ۔ یہ ضرور ہے کہ بعض اوقات کچھ فراڈیئے اپنی وضح قطع لباس چال ڈھال اور گفتگو سے مولویوں کا روپ دھار لیئے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں علما کی بہت عزت کی جاتی ہے اور لوگ ان پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرلیتے ہیں اس دن جب دروازے کی گھنٹی بجی تو میں نے دیکھا کہ عزیز احمد صاحب کھڑے تھے وہ میرے ایک پچھلے دفتر کے ساتھی بھی اور میرے بہت اچھے دوست بھی اللہ نے انہیں مال بھی بہت دیا ہے اور راہ خدا اسے خرچ کرنے کا حوصلہ بھی دیا ہے ۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ اللہ مال تو بہتوں کو دیتا ہے مگر مال کو اللہ کے راستے میں لٹانے کو حوصلہ کم کم کو ہی نصیب ہوتا ہے اس دن ہوا کچھ یوں تھا کہ ایک دن قبل عزیز بھائی کی مسجد میں ایک دینی مدرسے اور جامع مسجد کے سفیران آگئے تھے تعمیر مسجد و مدرسہ کا چندا لینے اس وقت تو جیب میں صرف پانچ سو تھے جو عزیز بھائی نے دے دیئے مگر پھر ان کا فون نمبر بھی لے لیا کہ مزید رقم دینی ہو تو انہیں گھر بلاسکیں ۔عزیز بھائی ان کو گھر بلانا چاہتے تھے اور ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ میں بھی اس میٹنگ میں بیٹھوں تاکہ اس سے پہلے کہ کوئی بہت لمبی رقم دیں وہ ان لوگوں کے بارے میں میری بھی رائے لے سکیں ۔ میں فون پر انہیں گھر بلانے کے حق میں نہیں تھا اس لیئے اسی وقت ان کے ساتھ وہ مسجد اور مدرسہ دیکھنے نکل گیا جو بہت دور تھا اورنگی ٹاون سے بھی کافی آگے وہ علاقہ تھا وہاں میں نے خود کو انوسٹر ظاہر کرکے پلاٹوں کی خریداری میں۔ دلچسپی ظاہر کی اور باتوں باتوں میں اس زیر تعمیر مسجد اور مدرسے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں تو مجھے جواب ملا " یہ مولوی سالے ہوتے بہت بے ایمان ہیں " یہ بات کیوں کہی گئی ؟ آئیے سنتے ہیں ایک بہت دلچسپ قصہ
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
