
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب اپنے عہد کے بہت اچھے لکھنے والوں میں سے تھے ۔ یوں تو ان کی وجہ شہرت ان کا خاکہ "ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی کچھ میری کچھ ان کی زبانی " بنا مگر وہ بہت عمدہ مزاح نگار تھے ان کے مزاح میں پھکڑ پن نہیں بلکہ بہت شائستگی اور دہلی والوں کا رکھ رکھاو تھا آزاد نگارستان اور دادا جان میں انہوں نے نقشہ کھینچا ہے آزادی ملنے کے بعد کے حالات کا ، آزاد ملک کی پارلیمنٹ اور اراکین پارلیمنٹ کا -اس مضمون میں شوکت تھانوی کی سودیشی ریل کا سا ماحول نظر آَے گا مرزا فرحت اللہ بیگ آزادی ملنے سے چند ماہ قبل انتقال کر گئے اس لیئے اپنی آنکھوں سے اپنا نگارستان تو نہ دیکھ سکےالبتہ اردو ادب کو وہ آزاد نگارستان اور دادا جان کا تحفہ ضرور دے گَئے
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
