پادگرد
کاور موت سے پہلے-خواب سے افسانے تک
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

موت سے پہلے-خواب سے افسانے تک

۸ آذر ۱۴۰۱ · 18 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

"خواب سے افسانے تک" ایک خوبصورت افسانوں کا مجموعہ ہے جسے تحریر کیا ہے جناب سید ریحان احمد صاحب نے ۔یوں تو ریحان احمد صاحب مشہور ادیب اور مصنف جناب شمیم احمد صاحب کے بیٹے اور مشہور شاعر جناب سلیم احمد صاحب کے بھتیجے ہیں ان کے دونوں بزرگوں کا انتقال تو بہت شروع میں ہو گیا تھا جب ریحان صاحب کی عمر ۵ سال سے بھی کم رہی ہو گی مگر شعر شاعری اور ادب سے محبت انہوں نے ورثہ میں پائی ہے انہیں سلیم احمد صاحب کو پورا کلام تقریبا حفظ ہے مگر خود ریحان صاحب بھی اپنی پختہ شاعری اور خوبصورت نثر نگاری سے اپنی ایک منفرد شناخت بنا چکے ہیں آپ گذشتہ پچیس سالوں سے کاخبارات میں مضامین اور کالم لکھ رہے ہیں آپ کی شاعری بھی بہت پختہ ہو چکی ہے ریحان صاحب ادبی تقریبات بالخصوص مشاعروں کی نظامت اپنے خوبصورت اندا ز کے باعث اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں ریحان صاحب کے افسانے کے مجموعے سے جو افسانہ منتخب کیا ہے اس کا نام ہے "موت کے بعد " یہ ایک بہت عمدہ افسانہ اور اسے منتخب کرنے کا محرک یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اس مجموعے کا انتساب بھی اپنے والد مرحوم کے نام کیا ہے ان کی موت کے بعد اپنی زندگی میں ان کی موجودگی کی کمی کا جس شدت سے اظہار کیا ہے اس نے ان کے افسانے " موت کے بعد " میں پنہاں غم کی شدت کو اور بڑھا دیا ہے " موت کے بعد" افسانہ کا مرکزی کردار جواں سال عاصم ہے جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا مگر عین جوانی میں اس پر رشتے کے تنازعہ پر اسے سفلی عمل اور جادو کے ذریعے مار ڈالا گیا تھا ۔ عاصم مرا نہیں تھا بلکہ اسے مرنے کے ڈاکٹری سرٹیفیکٹ کی بنیاد پر زندہ دفن کر دیا گیا تھا عاصم دہ دن تک اپنی ماں سے خواب میں فریاد کرتا رہا کہ میں زندہ ہوں مجھے قبر سے نکالوں تو اسے ممتا کا وہم سمجھا گیا لیکن تیسرے دن رات جب عاصم نے اپنی زندہ ہونے کا ثبوت دیا تو ایک عالم دین نے فتوی اور پولیس سے اجازت لینے کے بعد قبر کشائی کی گئی تو کیا حیرت انگیز ہو ا یہ جانننے کے لیئے افسانہ سنیئے " موت کے بعد"

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.