پادگرد
کاور لکھنو کی تہذیب
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

لکھنو کی تہذیب

۹ آذر ۱۴۰۱ · 14 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

لکھنو کی تہذیب عثمانہ اختر جمال صاحبہ کی تحریر ہے آپ کی پیدائش اور تعلیم ہندوستان کی ہے مگر شادی کے بعد سے وہ امریکہ منتقل ہو چکی ہیں آپ کئی مضامین اور افسانے لکھ چکی ہیں اور آپ کی کتابیں اس سے پہلے بھہی شایع ہو چکی ہیں اپ کو کئی زبانوں پر عبور ہے اور صحافت او ر کتابوں کی اشاعت سے متعلق علوم میں تعلیم اور مہارت بھی حاصل کی لکھنو کی تہذیب 75 صفحات پر مشتمل ایک کتاب ہے جس کا محرک پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورہ لکھنو کے موقع پر بولا ہوا ایک فقرہ ہے جب انہوں نے حیرت سے پوچھا تھا کہ "کہاں ہے لکھنو والے اور کہاں ہے لکھنو والوں کی زبان" ۔ مصنفہ کو اس بات کا شدت سے احساس ہے لوگوں کے ذہن میں جس لکھنو کا نقشہ ہے اور جو لکھنو کی زبان وہ سننا چا ہتے ہیں اب وہ نایاب ہے اگر چہ عثمانہ صاحبہ نے کو شش تو بہت کی ہے یہ ثابت کرنے کی سب کچھ پہلے کی طرح اچھا ہے مگر تبصرہ نگار نے بتایا کہ ان کی کتاب پڑھ کر کر یقین ہو جاتا ہے کہ نہ لکھنو وہ لکھنو ہے نہ اس کی زبان وہ زبان جیسی مصنفہ کی خواہش ہے اسی طرح اس کتاب سے لکھنو کی تہذیب کے نام پر سوائے مصنفہ کے اپنے اور ان کے بھائی ماموں اور والدہ کی سخاوت اور دریادلی کے قصوں کے کوئی اور قابل ذکر قصہ یا مثال نہیں ہے۔ تبصرہ نگار نے " لکھنو کی تہذیب" نامی اس کتاب میں کیے گئے دعووں کے برعکس سرکاری مردم شماری کے اعداد و شمار سے اب نہ صرف یہ کہ لکھنو بلکہ یوپی اور پورے ہندوستان اور پاکستان میں بطور زبان اردو بہت تیزی سے زوال پذیر ہے یہ الگ بات کہ بطور بولی اردو کا اثر و نفوذ یقینی بڑھ رہا ہے کہ مگر بولی تو اسے کہتے ہیں جو بولی سنی اور سمجھی جاتی ہے اس کہ برعکس زبان وہ ہے جو لکھی اور پڑھی جا تی ہے اور ایک المیہ ہے کہ لوگ نہ صرف یہ کہ اردو لکھنے اور اردو پڑھنے سے کترانے لگے ہیں بلکہ اب جو نئی نسل سامنے آرہی ہے وہ تو اردو کو اپنی مادری زبان ہی نہیں سمجھتی ہے تبصرہ نگار نے اردو زبان کے بارے میں پاکستان اور ہندوستان کے جو سرکاری اعداد و شمار پیش کیئے ہیں وہ آپ کو اس کتاب پر اس کے تبصرے میں مل جایں گے

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.