

شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
صدیوں سے پس ماندگی کا شکار بلوچ عوام نے جب ملک کی آزادی کے بعد اپنے ہی وسایل پر اپنے حق مانگے تو اسے ریاست سے بغاوت سمجھا گیا – صدیوں سے پسماندگی کے شکار غیور عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور یوں وہاں مزاحمت کی تحریک شروع ہوئی ۔ یہ مزاحمت دو طریقے سے ہوئی کچھ نے بندوق اٹھائی اور پہاڑوں کا رخ کیا اور کچھ نے قلم اٹھایا اور مزاحمتی ادب تخلیق کرنا شروع کر دیا - مزاحمتی ادب دنیا میں جہاں بھی تخلیق ہو اس کی خوبیاں مشترک ہوتی ہیں اور سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے تخیل کی پروا ز علامتی کرداروں کا استعمال اور اشاروں کنایوں میں بات کہنے فن ہے ۔ مزاحمتی ادب میں ادیب قاری تک اپنے دل کا حال پہنچا بھی دیتا ہے مگر اس کا کوئی جملہ قابل گرفت نہیں ہوتا ہے کیونکہ گھٹن کے ماحول میں سارا سچ کھل کر نہیں لکھ سکتا۔ ذکر کتاب میں پاکستانی ادب کا جائزے کے دران خاص طور پر ذکر رہے گا بلوچستان کے مزاحمتی ادب کا اس سلسلے میں آج کی منتخب کہانی صورت خان مری کی لکھی ایک مختصر کہانی ہے بوئے آدم زاد بود یہ کہانی ہے ۹ سال کی نابینا اور غریب بچی گلی کی جو اجنبی سپاہیوں سے محبت کرتی تھی اور انہیں تحفے دیا کرتی تھی اور وہ اجنبی سپاہی بھی ا س سے بہت محبت کرتے تھے اسے محبت کے علاوہ چھوٹے موٹے تحفے بھی دیا کرتے تھے مگر اس گلی کا انجام کتنا دردناک ہوا یہ جاننے کے لیئے یہ کہانی آخر تک سنیں " بوئے آدم زاد"
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.





