
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
"ایک قتل جو نہ ہو سکا" پاکستانی سیاست کے گرد گھومتی ایک سچی کہانی ہے جس کے سارے کردار حقیقی ہیں اس سچی کہانی میں نیکی اور بدی کی کشمکس دکھائی گئی ہے جس میں آخری فتح نیکی کی ہوتی ہے کہانی کے مطابق سیکیوریٹی کے اداروں کے کرنل کے عہدے پر فائز ایک بہت ذمہ دار شخص نے اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلی کو یہ اہم اطلاع پہنچائی کے گورنر ہاؤس پنجاب میں اس وقت کے چیف جسٹس خواجہ شریف کو کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے تحت جسٹس خواجہ شریف کو ان کے آبائی گھر میں اس وقت قتل کیا جائے گا جہاں وہ ہر مہینے کے آخری جمعہ عصر سے مغرب کے دوران میلاد کی محفل منعقد کرتے تھے اور عوامی تقریب کے باعث سیکیوریٹی لاہور ہائی کورٹ کہ طرح سخت نہیں ہو تی تھی –اس اطلاع کے مطابق اس سازش کے اہم کردار لاہور کے وہ بدنام زمانہ جرایم پیشہ افراد ہیں گورنر ہاوس میں بیٹھ کرقتل کے منصوبے تیار کر رہے ہیں جس کی سازش گورنر ہاؤس لاہور میں تیار ہوئ تھی اور آصف زرداری ، بابر اعوان اور سلمان تاثیر نے یہ منصوبہ تیار کیا تھا بتایا گیا کہ ان جرائم پیشہ اور کرائے کے قاتلوں میں آصف زرداری کا بہت قریبی ساتھی اور جسٹس نظام کیس میں گرفتار بابر سندھو تھا ایک دوسری ٹیم میں رانا پومی تھا جس کی صلح ایک دوسرے بدمعاش کالا کوشی سے کروانے کے لیئے ایس پی سی آئی اے لاہور عمر وردک اور ایس پی پرائم منسٹر سیکیوریٹی سرفراز وردک نے ،35 لاکھ روپے وصول کیئے تھے میاں کاشف عرف کاشی گورنمنٹ سائنس کالج لاہور کا طالب علم جو اسلامی جمیعت طلبہ میں شامل ہوا پھر غنڈوں کے گینگ میں شامل ہو جس کے دوست عمر کو رانا پومی نے قتل کروایا اور عمر وردک نے تیس لاکھ صلح کروائی تھی یہ سازش بالکل فرضی تھی اور سیکیورٹی کے ادارے کے ایک مقامی سربراہ کرنل احسان نے صرف شریف برادران کا اعتماد حال کرنے کے لیئے گڑھی تھی بھانڈہ پھوٹنے پر پولیس کے ایک سپاہی کو پر تشدد کر کے اور بھاری انعامات کا لالچ دے کر اپنی مرضی کا بیان لینے کی کوشش کی – پھر کیا ہوا کتنے کمیشن بنے اور ان کمیشنوں کا کیا نتیجہ رہا یہ سب کچھ جاننے کے لیئے کتاب پر اس تبصرے کو آخر تک پڑھیں
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
