
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
صومالیہ کا قیدی کتابوں پر تبصرے اور کتابوں سے اقتباس کے سلسلے میں پیش خدمت ہے ایک بہت عمدہ کتاب کا تعارف جس کا نام ہے صومالیہ کا قیدی یہ تحریر ہے کیپٹن کاظم عباس صاحب کی صومالیہ نوے کی دہائی کے اواخر سے تقریبا 2012 تک بد ترین بحری قزاقی کا شکار۔ رہا اس دور میں کاظم عباس صاحب کو ایک غلط وقت پر غلط جگہہ ہونے کے باعث بحری قزاقوں نے یرغمال بنا لیا جن کا بنیادی مقصد اس بحری جہاز کے مالک سے تاوان وصول کرنا تھا مگر جہاز کے مالک نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قزاقوں سے کہا کہ وہ سارے عملے کو چاہے باری باری یا ایک ساتھ قتل کردیا جاِئے اس کوئی فرق نہیں پڑے گا اس لیے کہ عملے کا کوئی ایک فرد بھی اس کا رشتے دار نہیں تھا اس کے بعد جہاز کے مغوی تمام اراکین عملہ کے ساتھ کاظم عباس صاحب کو قید میں 136 بدترین دن گزارنے پر گے ۔جس دوران عملے کے دو افراد کو جس میں کاظم صاحب ۔بھی شامل تھے روزانہ بد ترین ذہنی اور جسمانی تشدد کا شکار بنایا جاتا آرہا اور ان کو جرم یہ تھا کہ ان کا مسلک اغوا کنندگان کے مسلک سے مختلف تھے کہ کتاب حیرت انگیز واقعات سے بھی ہوئی ہے جس سے قاری کا تجسس آخری صفحے تک برقرار رہتا ہے کہ اب کیا ہوگا سچے واقعات میں مبنی اس کتاب میں اس معاشرے میں موجود کرداروں کے گھناؤنے چہروں کو بے نقاب کیا گیا ہے کہ کیسے ارب پتی تاجر نے صرف بحری جہاز کا انشورنس کلیم لینے کی خاطر اپنے عملے کے 21 افراد کو بحری قزاقوں کی قید سے آزاد کروانے سے صاف انکار کر دیا ۔ اس کتاب میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جب اصل دینی تعلیمات سے بے بہرہ جاہل لوگ مذھب کے ٹھیکے دار بن جاتے ہیں تو کس قدر سفاک ہو جاتے ہیں یہ کتاب آپ کو زندگی کے وہ گوشے دکھائے گی جو عام لوگوں نے دیکھے نہیں ہیں کہ کتاب پڑھ کر آدمی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے کہ وہ کبھی ان آزمائشوں میں سے نہیں گزرا جس سے کیپٹن کاظم عباس اور ان کے ساتھیوں کو گزرنا پڑا تھ ا
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
