

شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
کتابوں سے دوستی کا سفر ایک مختصر سا مضمون جو تحریر کیا ہے جناب محبوب پوپٹیا صاحب نے – محبوب پوپٹیا صاحب کے والد گجراتی زبان کےایک اچھے شاعر تھے ان کا سرطان کے باعث جب انتقال ہوا اس وقت محبوب پوپٹیا صاحب کی عمر صرف ساڑھے چھ سال تھی مرنے سے قبل انہوں نے اپنے بیٹے کو تحفے میں دینے کے لیئے ایک پارکر پین اور رولیکس گھڑی خرید کر بچے کی ماں کے حوالے کی وصیت کی کہ یہ تحفے اور میری تمام کتابیں سنبھال کر رکھی جاِیں اور میرے بیٹے کو اس وقت دی جائیں جب وہ انہیں پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہو جائے مگر بیٹے نے اصرار کر کے ان کتابوں تک اس وقت ہی رسائی حاصل کر لی جب وہ اسے پڑھنے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہوئے تھے وہ صرف کتابوں کو کھولتے پلٹتے اور مقفل کر دیتے تھے ان کتابوں سے ان کے مرحوم باپ کی یادیں وابستہ تھیں ۔ محبوب پوپٹیا صاحب کی مادری زبان گجراتی تھی ابتدائی تعلیم انگریزی میں ایک پارسی خاتون سے حاصل کی جب اسکول جانے کا وقت آیا تہ انہیں اردو بالکل نہیں آتی تھی اور اردو پڑھنا ان کے لیئے اتنا مشکل تھا کہ اسکول والوں سے باقاعدہ اجازت لی گئی کہ اس کا اردو میں امتحان نہیں لیا جائے گا مگر ان کے ایک استاد نے جو کلاس میں بچوں کو کہانیاں سناتے تھے ان میں اتنا شوق پیدا کر دیا کہ خود سے بچوں کے رسالے پڑھنے لگ گئے ۔ ماں ان کے مطالعہ کا شوق دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور انہیں فیروز سنز پر لے کر گئیں انہیں خود اردو بالکل نہیں آتی تھی اس لیئے انہوں نے ایک کتاب کے عنوان سے گمان کیا کہ یہ کوئی مذھبی کتاب ہو گی اور اس سے ان کو بچے کو اصلاحی سبق ملے گا ۔ مگر بچے نے جب وہ کتاب جس کا عنوان تھا خدا کی بستی کھولی تو اسے منظر نظر آیا کہ میونسپلٹی کی لالٹین کے نیچے راجہ نوشا اور شامی بیٹھے تاش کھیل رہے تھےراجہ غضب کے جملے مار رہا تھا اورکھیل کے اختتام پر پکچر جانے کی ضد کررہا تھا محبوب پوپٹیا صاحب لکھے ہیں کہ باقی سب تو میرے سمجھ میں آگیا مگر مگر نیاز اور سلطانہ کا معمہ میں سمجھ نا سکا کیونکہ اس وقت میری عمر صرف ۱۳ سال تھی پھر ان کے اردو مطالعے کے شوق نے ایک جنون کی صورت اختیا ر کر لی - آپ اس مضمون میں سنیں گے انہوں نے ان کتابوں اور مصنفین کو بھی پڑھ ڈالا جن کے کئی اردو دانوں سے صرف نام ہی سنے ہوں گے
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.

