
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
کرپشن کے سمندروں میں دیانت کے جزیرے ہمیں مال تو صرف اتنا ملتا تو ہمارے نصیب میں لکھا ہے ہمارا اختیار تو صرف اتنا ہے کہ لکھے کا کتنا ہم حلال سے کماتے اور کتنا حرام سے ۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک بڑے مالیاتی ادارے کے ایم ڈی کے گھر کا پرانا فرنیچر نیلام گھر میں بک رہا ہو اورایم ڈی کا پرائیویٹ سیکریٹری اس نیلام میں بولی لگا کر بلکہ بڑھا بڑھا کر بیڈ روم کے پرانے پردے مہنگے دام اس لیئے خریدلے کہ ایم ڈی کی بیگم کو پسند تھے مگر ایم ڈی اپنے عہدے کا فایدہ نہیں لینا۔ چاہتے تھے ۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ دو مالیاتی اداروں کا سربراہ رہنے والا جب کارپوریشن میں بھیجا جائے تو وہ وہاں کے ملکیتی دو ہزار گز کے مکمل فرنشڈ بنگلے میں اس لیئے منتقل نا ہو کہ وہاں 8 اے سی لگے تھے اور بطور سرکاری ملازم اس کا 2 اے سی کا استحقاق تھا ۔ ماں کا وہ کیا جملہ تھا جس کے باعث ایف آئی اے کے ایک انسپکٹر نے بلا مبالغہ کروڑوں روپے کی رشوت کو ٹھکرا کر گلی کے اندر دوسری منزل پر چھوٹے سے فلیٹ میں رہنا پسند کیا کیا آپ کے۔ خیال میں کوئی سرکاری افسر اتنا دیانتدار بھی ہو سکتا ہے کہ محرم کی نیاز کے لیئے راشن کارڈ کے بغیر 5 کلو چینی خریدنے پر اپنی بیوی اپنے نوکر اور راشن ڈپو کے مالک خلاف مقدمہ درج کروا کر ان تینوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کروا دے اور بعد میں کورٹ سے سزہ ملنے پر بیوی اور نوکر کے جرمانے اپنی جیب سے ادا کرے ۔ یہ آدھے گھنتے کا صوتی مضمون دیانتداری کے ان واقعات پر مشتمل ہے جو سب کے سب بالکل سچے اور مصدقہ ہیں ۔ اس صوتی مضمون کو سننے میں آپ کو آدھہ گھنٹہ ضرور لگے گا مگر آپ حیران رہ جاِیں گے ان واقعات کو سن کر بالخصوص نصیر الدین رضوی صاحب کے ذکر پر اور کہ ان کی ایمانداری ہر اللہ نے انہیں جو انعام دیا اس پر ان کے چاروں بیٹے کے بنگلہ دیش میں اپنے اپنے میدان میں کامیاب تریں لوگوں میں سے ایک ہیں جب وقت ملے اس مضمون کو ایک نشست میں مکمل سنیئے گا https://youtu.be/44LoEMubBDI
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
