
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
سنگ و خشت، شیشہ و تیشہ، چنگ و رباب، نوک نشتر، بال و پر، نرم گرم اور کامریڈ شیخ چلی کے مصنف کنہیا لال کپور اپنے عہد کے بہت کامیاب طنزنگار و ظرافت نگار ہیں۔ آپ کی خاص بات یہ ہے کہ تصانیف کی تعداد یوں تو بہت زیادہ ہے لیکن آپ نے اپنی تحریر کے معیار کو برقرار رکھا ہے اگرچہ کنہیا لال کپور کی تصانیف کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر بسیارنویسی کے باوجود وہ اپنی تحریروں کو معیار سے نیچے نہیں گرنے دیتے ہیں جس کا ان کا سبب فنی شعور ہے وہ جانتے ہیں کہ اعلیٰ درجے کا ادب کس طرح وجود میں آتا ہے۔ آپ ۱۹۱۰ میں لائل پور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور درس و تدریس کے پیشے کواختیار کیا کنہیا لال کپور نے انگریزی ادب کا وسیح مطالعہ کر رکھا تھا اور طنزیہ اور مزاحیہ اتحریر کے فن کی آگہی حاصل کی وہ جانتے تھے کہ طنزوظرافت میں کیسے حسن اور نکھار لایا جائے کہ قاری کے دلوں کو چھولے ان کی تحریریں سدا بہا ر ہیں اور ہر زمانے میں لوگ اسے شوق سے پڑھتے ہیں آپ کے ایک مضامین کا مجموعے کا نام ہے" شیشہ و تیشہ" جس میں ۱۸ سے زاید دلچسپ مضامین ہیں اسی میں سے ایک مضمون پیش خدمت ہے " نے چراغے نے گلے " یہ مضمون دلی کےدلچسپ کرداروں کے بارے میں جس میں وہاں کے گایڈ اور قوال شامل ہیں اس مضمون میں دلی والوں کے بود و باش اور گفتگو کے انداز کی دلچسپ نقشہ کشی گئی ہے آیئے سنتے ہیں ۔
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
