
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
داماد کلینک کے خلاف الزامات - ہش شاہ محی الحق فاروقی مرحوم کا یہ کالم 5 ستمبر ۱۹۹۷ کا شایع ہوا تھا جس میں انہوں نے اپنے مخصوص دلچسپ انداز میں ایک قصہ کا ذکر کیا ہے جب ایک بنک کے صدر نے اپنے داماد کو کلینک بنانے کے لیئے ایک بھاری رقم قرضے میں دے دی جو انہوں نے اسٹاک مارکٹ میں لگا دی اس کالم کو کچھ اور واقعات سے فاروقی صاحب نے دلچسپ بنا دیا ہے مثلا ایک اعلی سرکاری آفیسر کے اس ڈراینگ روم کا ذکرہے جو اس کا کہنا تھا کہ ایک پل کا سو فیصد تھا یا پھر پنڈت جی کے اس نوکر کا بھی لطیفہ ہے جس نے چوتھا لڈو پنڈت جی کے سامنے ہی یہ کہہ کر کھا لیا کہ" ایسے" ۔ اس کالم میں مشہور ادیب عظیم بیگ چغتائی کی وکالت کا بھی ذکر ہے جن کے منشی نے ۵۰۰ کے مقدمے کی وکالت کے لیئے ان سے وکالت نامے پر دستخط کروائے مگر صرف 6 روپے دے کر بقیہ فیس مانگنے پر اس نے یہ کیوں کہا کہ شکل دیکھی ہے اپنی ؟ 500 روپے فیس والے وکیلوں کی شکلیں ایسی ہوتی ہے ؟
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
