
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
سرکاری اداروں کی اصلاح یہ آپ بیتی ہے مشہور ماہر تعلیم ڈاکٹر عبدالوہاب صاحب کی جو ان کی زندگی کے اس دور سے تعلق رکھتی ہے جب وہ آئی بی اے اور کراچی یونیورسٹی میں کرپشن اور بد انتظامی کو ختم کرکے ان دونوں کو مثالی ادارہ بنا رہے تھے وہ بیک وقت اساتذہ طلبہ تنظیموں اشرافیہ اور بلڈر مافیا سے جنگ لڑ رہے تھے اس دوران ان پر کیا بیتی تھی قتل کی دھمکیوں سے عملی طور پر قاتلانہ حملہ کے کو پڑھ کر آپ کو معلوم ہوگا کہ ڈسپلن اور دیانتداری کو رواج دینا کتنا مشکل کام ہے ڈاکٹر وہاب صاحب کے کارنامے یہ تھے کہ انہوں نے آئی بی اے میں کوٹہ سسٹم کے بجائے صرف میرٹ پر داخلے پر سختی سے عمل کیا سفارش کلچر کا مکمل خاتمہ کیا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی سفارش ماننے سے انکار کیا ،امتحانات کا نظام شفاف کیا نقل مافیا کا خاتمہ کیا، اساتذہ اور ملازمین کے پریشر گروپوں کا مقابلہ کیا ، وقت اور ڈسپلن کی سختی سے پابندی کروائی، اخراجات میں کمی کی ، چوری کا خاتمہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ بلڈر مافیا سے یونیورسٹی کی زمینوں کا قبضہ چھڑایا ان سب معاملات کے لئے ڈاکٹر وہاب صاحب کو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ان کے بیٹے کو پریکٹیکل کے امتحان میں دو نمبر سے فیل کیا گیا انہیں گھر میں کفن کا سامان گھر بھیج کر مطالبہ کیا گیا کہ استعفی یا بیٹے کی تدفین میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں ۔ انہیں قتل کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا مگر انہوں نے سیکیورٹی لینے سے آپ نے انکار کر دیا بلڈر مافیا نے آپ کی کردار کشی کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے اخباری رپورٹروں نے ان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی طلباء تنظیموں نے انہیں پستول دکھا کر دھن دھمکایا اور جعلی بل پاس نہ کرنے پر ایک ملازم نے انہیں چاقو مار کر لہولہان کردیا ڈاکٹر وہاب صاحب کہتے ہیں کہ ایمانداری اور دیانتداری کے راستے میں تین بڑے خطرات ہیں پہلا خطرہ جان کا دوسرا خطرہ عزت کا اور تیسرا خطرہ نوکری کیا مگر وہ قرآن سے یہ رہنمائی لیتے تھے کہ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کرے گا اور ایسے ایسے رزق دے جدھر سے اس کا گمان بھی نہ جاتا ہوں جو اللہ پر بھروسہ کریں وہی اس کے لیے کافی ہے
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
