
ڈاکٹر مشیر الحق شہید - ایک کتاب کے باعث یونیورسٹی کے مشتعل طلبہ کا لایبریری کے خلاف ھنگامہ
۶ بهمن ۱۴۰۱ · 13 دقیقه
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
ڈاکٹر مشتاق الحق شہید نے 1987 سے لے کر 1990 تک یونیورسٹی آف کشمیر سری نگر کے وائیس ٹیسٹ کے فرص انجام دئے جہاں وہ فتح کے فتح کے کمانڈر شہید فتح آپ کی زندگی کی آواز کے آخری لمحات میں جناب لطف اللہ صاحب نے ریکارڈ کیا تھا۔ آپ کے بعد جناب خورشید عبداللہ صاحب نے اسے یو ٹیوب پر اپلوڈ کیا ایک طویل اور دلچسپ بات کہ آپ نے اپنی کہانی حیات سنائی مثلاً وہ کہہ دیا کہ مجھے ہندوستان میں بے خوف زندگی گزارنے کا مشورہ اس مکرانی گدھا گاڑی والے ہیں۔ جو مجھے پاکستان واپس لوٹا ہے ہندوستان واپس جانے کے لیے تل کیماڑی پر سمندری جہاز سے سواری لے گیا تھا اور اس کی نصیحت پوری عمر نہیں چھوڑی اسی طرح آپ کی بیٹی ایک قصہ یونیورسٹی آف کشمیر کے طلباء کے مشتعل احتجاجی مظاہروں کے دوران انہوں نے الزام لگایا کہ لائبریری میں ایک کتاب رسالت میں موجود ہے اور اسلام کا مسخرہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کو ڈاکٹر کے ماہر نے کیسے سلجھا کر ان کی آواز سنائی۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف یہ کہ سیکیوریٹی کے منع کرنے والے اراکین اسمبلی کے وفد نے اپنے گھر میں بات چیت کی بلکہ اس کے بعد وہ مشتعل طلبا کے اسہجوم سے براہ راست خطاب کرنے گئے - اس لڑکے کو ان کے قصے نے ہی کہا۔ آواز میں۔ سنیں دورانیہ۔ 14 منٹ
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
