
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
" میاں سمجھتا نہیں تھا بی بی سنتی نہیں ہے" یہ انتخاب ہے بریگیڈیئر بشیر ارائیں صاحب کی کتاب "خاک سے خاکی " سے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اشفاق احمد وردک صاحب نے روزنامہ دینا نیوز ۹۲ کی اشاعت میں اپنے کالم " تین آفیسر ، تین کتابیں " میں لکھا کہ منقول "خاک سا خاکی " نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے جناب بریگیڈیئر بشیر ارائیں کی فوجی زندگی کے نشیب و فراز کی دل گداز داستان ہے۔ ایک غریب لیکن محنت اور خدمت پہ یقین رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے کے تعلیمی، سماجی، سیاسی اور بری فوج کی ملازمت کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ عجز، خلوص اور سادگی اس کے اسلوب اور بیان کا خاصہ ہے۔ عمر بھر انھوں نے ماں جی اور میاں جی کو مرشد نیز پورے خاندان اور ضرورت مندوں کی خدمت کو اپنا منشور بنایا۔ کتاب طربیہ، المیہ واقعات اور دلچسپ کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ 1991ء میں جب یہ سیاچین بیس کیمپ میں تعینات تھے تو ان کی نئی نویلی دلھن نے شکوہ کیا کہ کیسے سنگ دل فوجی ہو، بندہ فون پہ کبھی آئی لوّ یو ہی بول دیتا ہے۔ انھوں نے سمجھایا کہ ایسا ممکن اور مناسب نہیں کہ ایکسچینج والے ہمارا فون سنتے ہیں۔ دوسرے دن سگنل کمپنی کے افسر کا فون آیا کہ ’سر آپ الزام نہ لگائیں، ہم کسی کا فون نہیں سنتے، آپ بے دھڑک بھابی جی کی فرمائش پوری کریں۔‘ پھر میجر اطہر صدیقی کی دو بیٹیوں کے کینجھر جھیل میں ڈوب جانے کا وقوعہ بھی نہایت دل خراش ہے، جسے انھوں نے بھاری دل کے ساتھ لکھا ہے۔ بعض کردار تو ڈراؤنی فلموں اور ٹریجک افسانوںسے بھی زیادہ چونکا دینے والے ہیں۔ خاص طور پہ چترال کہ جہاں کے قیام کے زمانے کو بریگیڈئیر صاحب شدت سے یاد کرتے ہیں، چترال، جو اپنی منفرد ثقافت اور پُر فضا مقام ہونے کی وجہ سے نہایت اہم ہے اور قومی و بین الاقوامی شخصیات کی توجہ کا مرکز بھی ہے۔ مصنف نے چترال کا دورہ کرنے والی سیاسی شخصیات، بالخصوص نواز شریف اوربے نظیر کے لالچی ساتھیوں اور فوائد بٹورنے والے خوشامدی افسران کی ذہنیت کو نہایت عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ بالخصوص وہاں کے کمانڈنٹ افسر کرنل مراد خاں نیّر والا واقعہ تو دل دہلا دینے والا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ پھالیہ کے گاؤں کا ایک نوجوان مراد خاں عرف مادی ملک، میٹرک کے بعد گھر والوں سے لڑ جھگڑ کے چپکے سے فوج میں بھرتی ہوجاتا ہے۔ پچیس سال بعد جب وہ کرنل کے عہدے پر پہنچتا ہے تو اچانک اُس کی ملاقات اپنے لنگوٹیے دوست حیدر کاظمی سے ہو جاتی ہے، جو اس کی منت سماجت کے بعد اسے گاؤں جانے پہ راضی کر لیتا ہے۔ اسی دوران نئی شادی شدہ وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی شندور میلے میں شرکت کا چرچا ہوا، جہاں مردِ اول نے پولو کھیلنے کی خواہش ظاہر کر دی۔ کھیل کر جب زرداری صاحب گھوڑے سے اُترے تو ایک میجر قدموں میں بیٹھ کر جمِ غفیر کے سامنے اُن کے بُوٹ اتارنے لگا۔ کرنل مراد چیخے کہ اسے کہو اور کچھ نہیں تو اپنی وردی کا خیال کرے۔ یہ آواز حکام کے کانوں تک بھی پہنچ گئی، پھر کیا تھا، کرنل کی جبری ریٹائرمنٹ کے آرڈر آ گئے۔ ریٹائرمنٹ والے دن یعنی 3 اگست 1989ء کو کمرے سے کرنل مراد کی لاش ملی۔ گولی ان کی دائیں کنپٹی سے آر پار ہوئی تھی" ۔
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
