
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
"جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں " یہ اقتباس ہے بریگیڈیئر بشیر آرائیں صاحب کی کتاب "خاک سا خاکی سے آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے قبل میں نے اسی کتاب سے آپ کو ایک ااقتباس سنایا تھا بہت دل چسپ اور جس کا عنوان تھا" بی بی سنتی نہیں تھی اور میاں سمجھتا نہیں ہے جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں " چترال اسکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل مراد خان کے بارے میں ہے جنہیں اپنی وردی کی عزت کا بڑا خیال تھا " جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں مین کرنل مراد خان کو فوجی کہ وردی کی حرمت کا بڑا پاس تھا اور یہی بات خود ان کی اپنی وردی اترنے کا سبب بن گئی ۔بشیر آرائیں صاحب لکھتے ہیں کے آصف زرداری صاحب چترال آئے تو انہوں نے میدان میں عوام کے سامنے پولو بھی جب وہ پولو کھول کر گھوڑے سے اتر رہے تھے تک ان کا محافظ کو فوج میں میجر تھا سب کے سامنے زرداری صاحب کی بوٹ اتارنے لگا جو کرنل مراد سے برداشت نا ہوا اور وہ چیخے کہ اس میجر سے کہو کہ اپنی نہیں تو اپنی وردی کی عزت کا خیال کرلے اس جرم میں ایک سال بعد کرنل مراد خان کو ہتک آمیز طریقے سے ریٹائر کر دیا گیا کرنل مراد جس دس سے سے چترال اسکاؤٹس کے کمانڈنٹ تھے چترال سے اور چترال کے عوام ان سے بڑا پیار کرتے تھے ۔ کرنل مراد نے اس توہین کے باعث خودکشی کرلی ایک عبرت انگیز وصیت جو کرنل مراد نے خودکشی کے نوٹ میں تحریر کی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے خاک سے خاکی https://youtu.be/lehiooCpeHM
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
