
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
فخر عالم صاحب خون جگر ہونے تک کے بارے میں لکھتے ہیں منقول متحدہ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد پاکستان میں جو ناول تخلیق ہوئے ان میں فضل کریم فاضلی کے ناول خون جگر ہونے تک کو خاص مقام حاصل ہے۔ کہانی تقسیم سے پہلے کے بنگال کے غریب دیہاتی زندگی کے اردگرد گھومتی ہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بنگالی دیہاتی معاشرے ،قحط مصائب اور سیاسی اور نظریاتی چپقلشوں کی داستان ہے۔ کہانی کا اسٹیج گھوڑا مارا نامی ایک گاؤں ہے جس پر افلاس اور بیماریوں سے دم توڑتے ،انسانوں، گھاؤ کھاتی روحوں اور خود غرضی، لالچ اور بے حسی کی موجوں میں ڈولتا ڈوبتا اخلاقی اقدار کے سفینے کی کہانی سجتی ہے۔ گھوڑا مارا تیسری دنیا کا ایک پسماندہ معاشرہ ہے جو نووارد سیاسی ،سماجی نظریاتی اور فطری تغیرات کا سامنا کرنے کیلئے بالکل بھی تیار نہیں۔ کہانی کا مرکزی کردار جمعدار صاحب ہے۔ بھوک، مصائب، انسانی ہوس اور نت نئے نظریات کی وجہ سے یہ کردار اندرونی تذبذب اور انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایک طرف جلودھر اور مخلص کے نظریات ہیں جن کی افادیت پر اسوقت کے حالات مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مدافعت میں جو قوت برسرپیکار منبع درونِ ذات کی گہرائیوں میں واقع ہے۔ ناول میں افلاس کی دو صورتیں ایک دوسرے سے لپٹی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ایک طرف بھوک اور غربت کا اثر جسموں پر ہو رہا ہے تو دوسری طرف روح اور اخلاقی قدروں پر۔ جیسے جیسے قحط کی وجہ سے انتڑیاں سکڑتی، پیٹ پیٹھ سے لگتے اور ہاتھ پاؤں سوجتے جا رہے ہیں، ویسے ہی کرداروں کے روحانی خدوخال تشکیل واضح ہو رہے ہیں۔ آفات و مصائب بیرونی دنیا میں تخریب کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں مگر ساتھ ساتھ انسانوں کی روحانی اخلاقی اور نظریاتی بنیادوں کی تعمیر بھی کر رہے ہیں۔ یہ اٹھتیں بنیادیں کہانی کے اختتام پر مکمل طور پر نمایاں ہوچکے ہوتے ہیں۔ ابتدا میں جمعدار اور پھول محمد سمیت کایک چھوٹی موٹی انسانی کمینگیوں اور خامیوں کے حامل دیہاتی لوگ ہیں مگر کہانی کے کینوس پر اترنے کیساتھ ساتھ ان کے کردار اور فکر میں پختگی آتی رہتی ہے۔ گویا شروع میں سب ایک چوراہے پر مجتمع ہیں مگر بدلتے حالات کیساتھ ساتھ وہ اپنے لیے منزلوں کاتعین کرتے ہیں اور اپنی راہ لیتے ہیں۔ کہانی میں پیش آنے والے واقعات جمعدار کیلئے ٹریجک ضرور ہیں مگر کہانی کا اختتام انکے لیے ٹریجک نہیں۔ انہیں اس ساری ٹریجڈی میں مات ہونے کے بجائے انکے ہاتھ زندگی اور اسکے مصائب کو دیکھنے اور پرکھنے کا ایک نیا زاویہ آتا ہے۔ برے دنوں میں اسکا گھر بار لٹ جاتا ہے۔ انکا اکلوتا اور جان سے عزیز تر بچہ چھانو میاں ماں سمیت افلاس اور وبا کی نظر ہوجاتے ہیں۔ پھر انکا ہمدم دیرینہ نوجوان پھول محمد جان سے گزر جاتا ہے۔ حالات انہیں سرکاری غریب خانے پہنچاتے ہیں۔ ان سب کے باوجود وہ مرجھانے کے بجائے زندگی کی اذان بن کر گونجتی ہے اور موت اور شکست کے خلاف مدان میں اتر آتا ہے۔ ہے وہ انگریزی استعماریت، عالمی سیاست اور انکا تیسری دنیا کے ایک افلاس ذدہ معاشرے پر اثرات ہے۔ ایک علمگیر جنگ کے نقوش ہی نہیں مٹے کہ دوسری جنگ شروع ہوگئی ہے۔ نوجوان نئے نظریات میں صدیوں کے جبر و استحصال سے نجات ڈھونڈ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں سر اٹھا رہی ہیں۔ دوسر جانب حاکم اپنی حاکمیت برقرار رکھنے کی کوشش میں جتا ہوا ہے۔ ایسے میں شاطر لوگ ہوا کا رخ دیکھ رہے ہیں مگر غریب عوام اس تمام گہما گہمی کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔ ہر کوئی انہیں ہانکتا اپنے باڑ میں لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انکے سلگتے پیٹ، بیٹھتی سانسوں اور ڈوبتی رگوں کی شاید ہی کسی کو پرواہ ہو۔ ان حالات کی داستان مصنف بغیر کسی غیر حقیقی رجائیت کا سہارا لیے کرتا ہے۔اسکے علاوہ جس موضوع کو اس ناول نے اپنی گھیرائی میں سمونے کوشش کی سے کوئی اس میں یہ ناول اپنی زبان میں نہایت ہی سلیس ہے۔ اس حوالے انفرادیت نہیں۔ البتہ جو چیز اسے اردو کے لازوال ناولوں کی صف میں لاکھڑا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مصنف نے جس کہانی کا انتخاب کیا ہے اسے اسکی روح کے ہمراہ قاری تک پہنچانے میں کامیاب ثابت ہوا ہے۔ کہانی کیساتھ اس سے بڑا انصاف اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ فکشن نگاری کی پیچیدگیاں اپنی جگہ لیکن سب سے ضروری کہ کہانی کو اسکی روح کیساتھ پیش کیا جائے۔ بعض اوقات فکشن نگار مرصع نگاری کے خبط میں کہانی کی روح گنوا بیٹھتا ہے۔ مگر اس ناول میں کہانی کی روح موجود ہے جو پڑھتے ہوئے قاری کے اندر حلول کرجاتی ہے اور وہ اس کہانی کو اپنے رگ و پے میں دوڑتی دل میں دھڑکتی اور آنکھوں سے چھلکتی محسوس کرتا ہے۔ بات یہ ہے یہی اس ناول کی اہم خوبی ہے۔
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
