پادگرد
کاور دوسری ملاقات - تحریرعمرانہ مقصود اور انور مقصود
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

دوسری ملاقات - تحریرعمرانہ مقصود اور انور مقصود

۱۹ اسفند ۱۴۰۱ · 14 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

یہ سچی کہانی ہے نظام حیدرآباد کی آنکھوں کے تارے حیدرآباد کے کمشنر نواب نثار یار جنگ کی اکلوتی بیٹی ے افسر عرف پاشی کی جس نے آنکھ کھولی تو باپ کے بڑے گھر کو ہمیشہ مہمانوں سے بھرا دیکھا۔ جہاں تین افراد کے خدمت کے لئےبیس تیس مختلف عمر کے لوگ اس لیئے ملازم تھے کہ نواب صاحب کو نوکروں کی نہیں بلکہ ان نوکروں کو نوکری کہ ضرورت تھی نواب نثار یار جنگ کی اکلوتی بیٹی پاشی کی شادی صرف 15 سال کی عمر می ایک دوری رشتہ دار قمر مقصود سے کردی جو اس وقت کالج میں طالب علم تھاوقت پلٹا اور حیدرآباد دکن کے حالات خراب ہوئے تو حیدرآباد کے نظام نے نواب نثار یار جنگ کو مشورہ دیا کہ آپ اپنے متعلقین کو لے کر پاکستان چلے جائیں یوں چالیس پینتالیس افراد کا قافلہ پانی کی جہاز سے خوابوں کی زمین پاکستان پہنچا۔ یہ اتفاق تھا کہ وہ دو اونٹ گاڑیاں تو جہاز سے سامان اتار کر منزل تک پہنچ گئیں جس پر کتابین لدی تھیں البتہ وہ تیسری اونٹ گاڑی راستے سے غائب ہو گئی جس پر گھر کا قیمتی سامان زیورات اور لڑکیوں کے جہیز لدے تھےنواب صاحب کی غیرت نے گوارہ نا کیا کسی متروکہ جائیداد پر قبضہ کرتے اور کلیم مین اپنے نام لکھواتے اس لیئے کھلے میدان میں خیمے لگا کر سب کے ساتھ مقیم ہوگئے نواب صاحب کا دسترخوان پھر سے وسیح ہوگیا اور حیدر آباد سے آئے لوگوں کے لیئے دیگوں میں کھانا پکنے لگا ۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ اتنا برسا ٹوٹ کے بادل کے خیمے اڑ گئے سارہ سامان بہہ گیا نواب صاحب کی اولاد پی آئی بی کالونی کے چھوٹے سے کرائے کے کورٹر میں منتقل ہو گئی جس میں نہ بجلی تھی نا پانی تھا ۔ پھر یوں ہوا کہ پاشی بیوہ ہو گئی اس کے شوہر جن سے دس اولادیں تھیں 42 سال کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کرگئے پاشی نے اپنے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے میدان میں شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا اور یوں وہ گھر این خانہ تمام ہمہ آفتاب است کہ مثال بن گیا ان ہی میں سے ایک انور مقصود بھی تھے جنہین گھر کی دیواروں پر کوئلہ اور چاک سے تصویری بناتا دیکھ کر ان کے پڑوسی مشہور آرٹسٹ شاکر علی نے تصویر کشی میں ان کی لیاقت کو بھانپ کر حوصلہ افزائی کی۔ انور کے شوق کی تکمیل کے لیئے کاشی کی پرانی ساڑھیوں کا پھاڑ کر کینوس بنائے گئے کہ کاغذ خریدنے کے پیسے نا تھے یہ کہانی ہے انور مقصود کی جو لکھی ان کہ اہلیہ عمرانہ مقصود عرف عمو نے جنہوں نے بتایا کہ انور مقصود پاکستان میں اتنے ہی مقبول ہیں جیسے ہندوستان میں فلمی ستارے جہان سے گزرتے ہیں لوگ ان کے مداح انہیں گھیر لیتے ہیں مگر انور اپنے ساتھ کبھی کوئی گارڈ یا ڈارائور نہیں رکھتے ہیں ہمیشہ خود ہی چھوٹی سی گاڑی ڈرائیو کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے شیشے پر ٹھک ٹھک سن کر وہ گاڑی کے شیشے اتار کر اپنے مداح سے مسکرا کر مصاحفہ کرتے ہیں ۔یہ کہانی ہے خود عمرانہ مقصود کی جسے اس بات پر فخر ہے کہ اس کے پاس جتنے سونے کے زیورات تھے وہ اپنی بہو اور بیٹی جو تحفے جو بچے وہ بیچ ڈالے اور اب محفلوں میں ہا چاندی کے ورنہ ،ذ،Artificial زیورات پہن کر جاتی ہےیہ کہانی ہے " دوسری ملاقات" کی جس میں۔ انور مقصود کے سوانح حیات بھی ہے اور عمرانہ مقصود اور انور مقصود کی کئی متفرق خوبصورت تحریریں بھی سن 2022 میں مکتبہ دانیال سے چھپنے والی 236 ,صفحات پر مشتمل یہ کتاب عام قاری کو 1200 روپے میں مہنگی لگے گی ۔ مگر !اس کتاب کو پڑھ کر جینے کا جو سلیقہ آتا ہے وہ انمول ہے یہ ان کتابوں میں۔ اے ایک ہے جسے گھر میں نئی روایت کا حصہ بننا چاہیئے کہ ہفتے میں ایک دن سب گھر والے ٹی وی انٹرنیٹ وائی فائی بند کرکے چند گھنٹے ایک ساتھ بیٹھیں چائے کی بھاپ اڑ رہی ہوں درمیان میں مونگ پھلیاں رکھی ہوں اور باری باری کوئی ایک اس کتاب کے اپنے پسندیدہ اوراق پڑھ کر سنائے باقی اسے شوق سے سنیں تاکہ۔بچوں کو معلوم تو ہو کہ زندگی ہے کیا اور اسے گزارہ کیسے جاتا ہے یہ وہ سبق ہیں جو نہ ہمیں کسی تعلیمی ادارے میں ملتے ہیں نا نصابی کتاب میں

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.