پادگرد
کاور خاکی سائے
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

خاکی سائے

۲۰ اسفند ۱۴۰۱ · 15 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

فوج اور عدلیہ کے اعلی حکام میں ایک عجیب سا رشتہ پایا جاتا ہےء جس میں ایک دوسرے کے لیئے احترام بھی ہے اور اپنے پیشے کا احساس برتری بھی۔ خاکی سائے کے مصنف جنرل کے ایم عارف صاحب کے انتقال کر سابق چیف جسٹس پاکستان جناب ارشاد حسن خان نے لکھا کہ منقول جنرل ضیاء خوش قسمت تھے کہ جنہیں میجر جنرل عارف کی زندگی بھر کی معاونت ملی ۔انہیں جنرل یحیٰی کے دور حکومت میں مارشل لاء آفیسر کی حیثیت سے کاروبارمملکت چلانے کا تجربہ تھاچنانچہ اس تجربے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل پر اُنہوں نے بحیثیت وائس چیف آف آرمی سٹاف ، بنیادی اوراہم کردار ادا کیا اور انہوں نے پیش آمد ہ معاملات و امور کو بہ حُسن و خوبی چلایا انہیں ایک بہت ہی اعلیٰ اور سخت فوجی آفیسر کے طور پر پہچانا جاتاتھا۔انہوں نے اپنے پورے کیرئیر میں کبھی بھی اپنے اخلاق اور اصول پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انکی ممتاز خدمات کے پیش نظر ، انہیں ستارئہ بسالت اور دیگر بہت سے اعلیٰ سول اور فوجی ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے شاعری کی طر ف بھی توجہ مرکوز کی اوروہ اپنی ذاتی سوانح اور فوجی امور سے متعلق تصانیف کے مصنف کی حیثیت سے فوجی مورخ بن گئے۔وہ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ سات سال تک رہے۔اس حوالے سے انہوں کتاب ـ"Working with Zia ul Haq"لکھی جو اس دور کی تاریخ کو اجاگر کرتی ہے۔اس کتاب میں جنرل کے ایم عارف نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے سودو زیاں کی بات کی ہے۔وہ کہتے ہیں:میرا تعلق ایک ایسی نسل سے ہے جو سربلند بھی ہے اور مجرم بھی۔ سربلند اس لیے کہ اس نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا اور پاکستان تخلیق کیا اور مجرم اس لیے کہ اپنی نااہلی کی وجہ سے مشرقی پاکستان گنوا دینے کا ’’اعزاز‘‘ حاصل کیا۔ ہماری ناپختگی کی یہ ایک روشن دلیل نہیں تو اور کیا ہے کہ 1971ء کے سانحہ کے صرف چھ سال بعد ملک ایک اور مارشل لا کے گڑھے میں دھکیل دیا گیا۔‘‘ یہ تو تھی ایک جنرل کے ایم عارف کے بارے میں سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کی رائے خود جنرل صا حب عدلیہ کے ججز کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھا یہ آپ کو خاکی سائے میں جسٹس صمدانی صاحب کے بارے میں جنرل کے ایم عارف کی رائے سن کر معلوم ہوگا اگرچہ کے ایم عارف صا

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.