
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
کچھ عرصہ قبل ذکر کتاب کے چینل پر ہم نے ایک تعارفی پروگرام ڈالا تھا جو دکن کی غیر مطبوعہ تاریخ کے بارے میں ایک آنے والی کتاب کے بارے میں تھا آج یہ اس کتاب پر اس کتاب کو شائع کرنے والے قاضی مظھر الدین صاحب پر مکمل پروگرام ہے جس کا دورانیہ 30 منٹ ہے اس کتاب کو تحریر کیا تھا حیدرآباد دکن کے ایک وکیل جناب بدرالدین صاحب نے جسے قلمی نسخے کی مدد سے کمپوز کر کے طبع کرونے کا اعزاز ملا ہے ان کے پوتے جناب قاضی مظھر الدین طارق صاحب کو اس کتاب کے سلسلے میں ہم نے ذکر کتاب کے لیئے قاضی مظھر الدین صاحب کا تفصیلی انٹرویو ان کے گھر جا کر کیا جہاں ان کی لائبریری اور اس میں موجود قدیمی مخطوطات کو دیکھنے کا بھی موقع ملا قاضی مظہر صاحب خود کئی صلاحیتوں کے مالک ہیں وہ ایک اچھی ادیب بھی ہیں اور بہت اچھے آرٹسٹ بھی ہمیں ان کے گھر ان کی گیلری میں آیل پینٹنگ سے لے کر فائبر گلاس تک میں تیار کیئے ہوئے ان کے آرٹ کے نمونوں کو دیکھنے کا موقع ملا جس کی وہ کسی دور میں سولو نمائش کیا کرتے تھے قاضی صاحب کی اپنی چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں جس میں بچوں کے ناول اور سائنس فکشن تک شامل ہیں ان کتابوں کی کمپوزنگ اور اس میں موجود تصویری خاکے اپنے ہاتھ سے بنا کر قاضی صاحب نے اپنے ہاتھ سے بنا کر اپنے ان بزرگوں کی یاد کو زندہ کر دیا جو اپنے مخطوطے اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے اور ان مخطوطوں میں رنگین تصاویر اپنے ہاتھوں سے بناتے تھے قاضی صاحب کے گھرانے کا پرانا تعلق علم و ادب سے ہے اگر ان کے قدیم بزرگوں کا ذکر چھوڑ بھی دیا جائے تو خود قاضی صاحب کتابوں سے محبت کرنے والوں اور کتابیں لکھنے والوں کی چوتھی پشت ہے یہ الگ بات کہ قاضی صاحب کے پرانے کتابیں وہ پڑھ نہیں سکتے ہیں کیونکہ وہ کتابیں فارسی زبان۔ میں تھی جس سے برصغیر کے مسلمانوں کی طرح خود قاضی صاحب کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے اور۔ وہ زبان اب متروک ہو چکی ہے ادب سے یہ رشتہ اگلی نسل کو بھی منتقل ہو چکا ہے ان کی بیٹی تنزیلہ حسن اور ان کے نواسے اور نواسیوں کی بھی کتابیں شائع ہوچکی ان کی کچھ بیٹیاں اگرچہ اردو میں بھی مضامین لکھتی ہیں لیکن دیکھا جائے تو تنزیلہ حسن نے اپنی انگریزی کتابوں سے شہرت پائی ہے نہ صرف یہ کہ ان کی اور ان کے بیٹوں کی کتابیں انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہیں بلکہ تنزیلہ حسن نے جو اشاعتی ادارہ قائم کیا ہے اس کی وجہ شہرت بھی انگریزی زبان میں درجنوں کتابوں کی اشاعت ہے ۔ سچی بات ہے مجھے یہ بات عجیب سی لگی کہ جیسے قاضی طارق صاحب اپنے پردادا کے مخطوطے کو دکھا کر حسرت سے کہتے ہیں کہ کاش مجھے فارسی آتی مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔کہیں ایسا تو نہیں چند پشتون کے بعد ان کی اولاد بھی ان کی کتابون کو دیکھ کر حسرت سے کہے گی کہ ہمیں کیا معلوم اس میں کیا لکھا ہے ہمیں اردو نہیں آتی مگر قاضی صاحب نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے بہت سوچ سمجھ۔ کر یہ فیصلہ کیا ہے اس نے انگریزی میں ناول سفرنامے بچوں کی کتابیں اور تربیتی لٹریچر اس لیئے تحریر کیئے اور دوسروں کی انگریزی میں لکھی بچوں کے لیئے کتابیں شائع کرنی شرو ع کی کہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ہم چاہیں یا نا چاہیں ہماری نئی نسل کے بچے اب اردو سے زیادہ انگریزی کتابیں اور انگریزی ادب پڑھتی ہے ۔ بہت ضروری ہے کہ ان بچوں کو اپنی اقدار کے نزدیک رکھنے کے لیئے انگریزی زبان میں لٹریچر تخلیق کیا جائے تاکہ وہ مغربی لٹریچر کے زیر۔ اثر اپنی ثقافت اور اپنی روایات سے دور نا ہو جائیں ۔ بہت اچھا جذبہ ہے اللہ اس خاندان کو اپنے ارادوں میں کامیابی دے تاریخ دکن ایک حیرت انگیز کتاب ہے تاریخ کے کئی گوشے اس میں بے نقاب کیئے گئے ہیں اس میں۔ حیدرآباد کے اس نظام کا بھی ذکر ملے گا جسے انگریزوں نے صرف اس لیئے کروادیا کہ وہ چھپ کر انگریزوں کے خلاف مغل حکمرانوں کی مدد کر رہے تھے چنانچہ ان کے قتل کے بعد ان کی جگہہ انگریزوں اس شخص کر نظام حیدرآباد بننے میں مدد دی جو انگریزوں کا وفادار تھا اس کتاب کا انتظار کیجیئے
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
