پادگرد
کاور اردو بولی اور اردو زبان کا پس منظر
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

اردو بولی اور اردو زبان کا پس منظر

۱۰ اردیبهشت ۱۴۰۲ · 13 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اردو برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی زبان ہے جب کے حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں مسلمانوں کا مذھبی ذریعہ تعلیم عربی تھا جس کے فارغ التحصیل مولوی فاضل کہلاتے تھے اور ان کی سرکاری زبان فارسی تھی جس کے فارغ التحصیل منشی فاضل کہلاتے تھے اردو صحافت کی تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خطے میں اردو صحافت کا آغاز بنگال کے ہندو صحافیوں اور مالکان اخبار نے کیا تھا اور اردو کا پہلا اخبار جام جہاں نما صرف چھ شماروں کی اشاعت کے بعد دوبارہ فارسی زبان میں اس لیے منتقل کرنا پڑا کہ اردو پڑھنے والے نہیں تھے ۔ اکثر لوگ زبان کو (جو تحریر کی جاتی ہے اور پڑھ کر سمجھی جاتی ہے) گڈ مڈ کر دیتے بولی سے اور بولی وہ ہوتی ہے جو بولی جاتی ہے اور سن کر سمجھی جاتی ہے ۔اردو زبان اس خطے میں نا تو عرب یا ترک یا اہل فارس اپنےساتھ لائے نہ اس خطے میں سے کسی کی بھی زبان اردوتھی ہاں یہ بہت میٹھی بولی تھی جس نے مختلف زبان اور ثقافت کے باہمی اخلاط سے جنم لیا تھا۔جسے ہندوستان کے ہر طبقے کے لوگ سن اور سمجھ لیتے تھے اور بلاشبہ یہ بولی اس خطے کی Lingua Franca تھی مسئلہ صرف اتنا ہوا کہ کہ ہندوستان میں بولی جانے والی اس بولی کا نام ہندوستانی بولی تھاجو مسلمانوں کو قابل قبول نا تھا جب کہ کئی بار مسلمان دانشوروں ( بشمول مولانا سید سلیمان ندوی ) نے یہ بات سمجھائی کہ زبان کا نام بالعموم اس علاقے سے منسوب ہوتا ہے جہاں وہ بولی جاتی ہے عرب لوگ عربی بولتےہیں بنگال کی زبان بنگالی ہی اور فرانس میں فرانسیسی بولی جاتی ہے ہم ہندوستان میں بولی جانےزبان کا نام ہندوستانی رہنے دیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے مگر یہ بات مسلمانوں کو قابل قبول نہیں تھی چونکہ ہندوستانی بولی کا کوئی رسم الخط نہیں تھا اور ہندی اور اردو کابھی کوئی اس لیئے انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج میں اس ہندوستانی بولی کو فارسی رسم الخط میں لکھ کر اردو کہا اور دیوناگری رسم الخط میں لکھ کر اسے ہندی کا نام دیا اور درجنوں ملازمین کا تقرر کیا کہ وہ اردو اور ہندی رسم الخط میں کتابیں لکھنی شروع کریں اس کے بعد ہی تو اردو نثری ادب کا آغاز ہوا فورٹ ولیم کالج سے پہلے کے پانچ اردو مطبوعہ ناولوں کے نام پوچھے جائیں تو آج کسی کو معلوم بھی نہیں ہوگا

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.