پادگرد
کاور پیچ و تاب ِ زندگی
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

پیچ و تاب ِ زندگی

۱۴ اردیبهشت ۱۴۰۲ · 27 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

پیچ و تاب زندگی بریگیڈیر ریٹایرڈ صولت رضا صاحب کی تصنیف ہے ۔ صولت رضا صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کرنے کے بعد ایک ایسے وقت میں فوج میں کمیشن لیا کہ جب سقوط ڈھاکہ کے باعث فوج کا مورال بہت نیچا تھا اور نوجوانوں میں بھی فوج میں شمولیت کی کوئی امنگ نہیں تھی 1971 کی شکست کے بعد فوج میں شرکت کرنے والوں میں۔ کرنل اشفاق حسین شامل تھے جو صولت رضا صاحب کی طرح صحافت کی ڈگری رکھتے تھے تیسرے فرد سہیل پرواز تھے ایک نامور ادیب اور صحافی الطاف پرواز کے بیٹے اور خود بھی لکھنے لکھانے کے شوقین اور یہ تینوں فوج کے میڈیا ونگ سے وابستہ رہے اور نامساعد حالات میں۔ بھی فوج کا امیج بڑھاتے رہے ۔ یہاں تک کے اپنے مضامین اور اپنی کتابوں سے نوجوانوں میں ایک بار پھر فوج میں شامل ہونے کا جذبہ بیدار کیا صولت رضا صاحب نے لکھنے لکھانے کا آغاز ایک چھوٹے سے واقعے سے کیا کہ جب ایک۔ چھوٹے سے بچے نے انہیں یونیفارم میں دیکھ کر سلوٹ مارا تھا جواب میں۔ صولت رضا صاحب نے بھی اسے سلوٹ مارا اس چھوٹے سے واقعے کو انہوں نے کچھ اس خوبصورت انداز میں تحریر کیا کہ جب وہ الہلال میں چھپا تو بہت مقبول ہوا اور مزید تحریروں کی ان سے فرمائش ہوئی صولت رضا صاحب نے فوج میں بہت بھرپور زندگی گزاری انہوں نے بہت مشکل وقتوں میں کراچی بلوچستان میں خدمات انجام دیں بلکہ وہ فوجی خدمات مہیا کرنے بوسنیا اور کروشیا بھی گئے اس لیئے پیچ و تاب زندگی میں ان کی زندگی کے ایسے بہت سے واقعات پڑھنے کا ملتے ہیں جو انوکھے بھی ہیں اور بھیانک بھی اگر بات سوہل ملٹری کشمکش کی ہو یا کارگل کی جنگ کی صولت صاحب آج بھی ہمیں حاضر ڈیوٹی فوجی ترجمان نظر آتے ہیں جن کے لیئے آج بھی سب کچھ فوج کا وقار ہے اس ویڈیو کے خاص خاص موضوعات ہیں آپ ٹایم اسٹمپ لنک کر پریس کر کت براہ راست سن سکتے ہیں Timestamps- 00:00 03:00 اکہتر کی شکست کے بعد پیشہ ور صحافیوں نے فوج کو مورال بڑھایا 04:21یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم کھیت میں سائکل ہاتھ میں پکڑ کر 06:30 شہرت ملی بچے کے ایک سلوٹ سے 07:05 کتا دوڑ میں نیلی واسکٹ والا آگے 10:10 زخمی گورنر کو دیہاتیوں نے ٹریکٹر ٹرالی پر اسپتال پہنچایا راستے میں انہیں ہلدی تیل پلاتےرہے 11:20 مسجد کی جگہ ویک اینڈ میوزک نایٹ کلب بنوا دیا 13:10 کراچی میں فوج کی نگرانی میں طلبہ تنظیموں کے پاس بدترین تشددد کا شکار قیدیوں کا باہمی تبادلہ 16:40 ایوب خان اور یحیی خان دونوں دہلوی تھے 17:46 فوج کو بدنام کرنے کے لیئے بھٹو صاحب نےھتیار ڈالنے کے کلپ چلوائے 18:20 کارگل پر پرویز مشرف نے نواز شریف کواعتماد میں لے کر کیا تھا 18:46 کارگل میں پاکستان کی شکست ہوئی اسباب کیا تھے تبصرہ نگار کا تجزیہ 21:30 بری فوج میں صرف تین لوگوں کارگل آپریشن پر اعتماد میں نہیں لہا گیا – تبصرہ نگار 23:33 فضایہ کے آپریشن سفید ساگر نے کارگل کی جنگ کا نقشہ پلٹ دیا تبصرہ نگار 26:33 پرویز مشرف بھی یہ لطیفہ سن کر ہنسے ہو ں گے کیونکہ اتنے بھولے نہیں تھے – تبصرہ نگار

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.