پادگرد
کاور وزنی شعراکی مہمل اور بے وزن شاعری
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

وزنی شعراکی مہمل اور بے وزن شاعری

۲۶ اردیبهشت ۱۴۰۲ · 25 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

"وزنی شعرا کی مہمل اور بے وزن شاعری" پچیس منٹ کی اس ویڈیو میں شاعری کے ارتقا کا ہلکےپھلکے اور لطیف انداز میں جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس ویڈیو میں احوال دیاہے کہ شاعری کیسے ندرت خیال سے ہوتی ہوئی اس حال کو پہنچی کہ روٹی روزی کی تلاش میں شاعروں کا کام جگاڑی مستریوں والا ہوگیا پھر انہیں دھنیں بنا کر دی جانے لگیں کہ کفن تیار ہے سائز کا مردہ لے آئیے یعنی اس دھن پر گیت لکھیئے اور اس کی مثال تبصرہ نگار نے قومی ترانے سے دی جس پر ابصار احمد صاحب عقیل عباس جعفری صاحب اور عابد علی بیگ صا حب نے کتابیں لکھیں کیونکہ اس پر بحث ہوتی رہتی ہے کہ ہماراقومی ترانہ ہے کس زبان میں اکثر لوگوں کہنا ہے کے یہ کہ قومی ترانہ فارسی الفاظ پر مشتمل ہے اور اس میں صرف ایک لفظ" کا ' ہی اردو کا ہے عابدعلی بیگ نے اپنی کتاب میں قومی ترانے کےفارسی زبان میں ہونے کی بھرپور تردید کی اور کہا کہ یہ فارسی زبان کا ترانہ کیسے ہو سکتا ہے 40 الفاظ کے اس ترانے میںساٹھ فیصد عربی الفاظ ہیں ساڑھے سینتیس فیصد فارسی الفاظ اور 2.5 فیصد سنسکرت لفظ استعمال ہوئے ہیں آپ سوچیں گے کہ اردو کہاں گئی اسی بات پر تو عابد صاحب نے یہ پوری کتاب لکھی ہے جس میں انہوں مثالیں دے کر ثابت کیا کہ عربی فارسی اور سنسکرت کے الفاظ ہیں توکیا ہوا یہ چالیس کے چالیس نسخے الفاظ اردو میں مستعمل ہیں ویسے اصل بات وہی ہے جس کی طرف عقیل عباس جعفری صاحب نے اشارہ کیا ہے کہ پہلے کریم چھاگلہ صاحب کی دھن تیارکی پھر ایک مقابلے میں سیکڑوں پاکستانی شاعروں کو وہ دھن سنائیگئی کہ اس دھن پر ترانے کے لیئے میں شاعری کے الفاظ ڈال دو حفیظ جالندھری صاحب نے دھن کی مناسبت سے ایسے الفاظ چنے کہ وہ سب پر بازی لے گئے اسویڈیو میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ کس طرح ہندوستانی شاعرات نے شاعری کو سننے سے زیادہ دیکھنے کی چیز بنا دیا ہےاور ان کی ساری شاعری پر محض ساڑھی شاعری بن کر رہ جاتی ہے اس بات کا بھی تبصرہ نگار نے ذکر کیا ہے کہ کیسے بعض شعرا نے آزاد شاعری کو ہر قسم کیعروض کی بندش سے آزاد کرکے مادر پدر آزاد شاعری کی صنف کو رو شناس کردیا ہے ۔ تبصرہ نگار کا کہنا ہے کہ ان شاعروں سے انتقام کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کیاصلاح کرنے کے بجائے ان کی تعریفیں کر کر کے انہیں دیوان چھپوانے کے لیئے راضی کیا جائے ہ اس سے بڑی سزا ان شاعروں کو دی نہیں جاسکتی ہے یوں بھی اگر کوئ چینی سے مرتا ہو تو اس چینی ہیں سے ماریں زہر دے کر نا ماریں تبصرہ نگار نے شاعروں کی اصلاح کرنے سے اس لیئے منع کیا ہے کہ بعض اوقاتکچھ نا جاننا بھی رحمت اور جان بخشی کا سبب بن جاتا ہے جیسے شہنشاہ جہانگیر نے ایک شاعر کی جان بخشی یہ کہہ کر کہ چونکہ تجھے شاعری میں۔ عروض کا پتا نہیں ہے اس لیئے اس بار تمہاری جان بخشی کردی ہے ورنہ جان سے مار دیتا آخر میں تبصرہ نگار نے ساقی فاروقی کی کتاب آپ بیتی پاپ بیتی سے ایک دلچسپ واقؑعے کی تفصیل بتائی ہے عزیز حامد مدنیکا شعر وزن میں ہے یا نہیں اس بات پر ایک بار شاعروں میں بحث اتنی تلخی تک پہنچی کہ ساقی فاروقی نے ایک زور دار طمانچہ مجتبی حسین کے منہ پر جڑ دیاپھر بھی غصہ نا اترا تو مجتبی حسین کو دھمکی دی کہ تمارا جو بیٹا میری پاس پڑھتاہے میں اسے امتحان میں فیل کر دوں گا

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.