
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
بنگلہ دیش کے معمار بنگلہ دیش آج دنیا میں ایک مضبوط مسلم معاشی طاقت اور ملک بن کر ابھرا ہے اکثر لوگ بنگلہ دیش کی آزادی کا سہرا مکتی باہنی اور ہندوستان کے سر باندھتے ہیں جب کے حقیقت اس کے برعکس ہے ایک ایسے وقت میں جب بنگلہ دیش کا پورا انفرا اسٹریکچر سڑکیں پل عمارتیں زراعت صنعتی اور تجارتی مراکز 70 کے سمندری طوفان اور 71 کی خانہ جنگئ کے باعث باکل تباہ ہو چکے تھے، بنگلہ دیش نے انفرا اسٹریکچر کیبحالی کے بہانے بھی ہندوستان کی فوج کو بنگہ دیش میں رکنے کی اجازت نہیں دی اور آزادی ملنے کے 90 دن سے کم مدت میں یعنی 12 مارچ کو 1972 کو آخری ہندوستانی سپاہی کو واپس ہندوستان بھیج دیا پھر اپنے زور بازو سے بنگلہ دیش کو اپنے پیروں پر کھڑا کر دیا ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بنگالی پاکستان سے الگ نہیں ہونا چاہتے تھے مگر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ان میں شعور پیدا کیا کہ ان کو اپنا الگ ملک بنا لینا چاہیے - اس بات کی گواہی ان دو لوگوں نے اپنی کتاب میں دی ہے جن کا تعلق پنجاب سے تھا اور جو ایوب خان کے معتمد ترین ساتھیوں میں سے تھے ان میں سے ایک تھے الطاف گوہر جنجوعہ ایک سینیر بیوروکریٹ ایوب خان کے دور میں وہ انفارمیشن سیکریٹری تھے اور انہیں لکھنے لکھانے پر بہت عبور حاصل تھا اس لیۓ وہ ایوب خان کے قریب ترین ساتھیوں سے تھے اورکہا یہ جاتا ہے بھی الطاف گوہر صاحب نے ایوب خان کی آپ بیتی فرینڈز ناٹ ماسٹرز لکھی تھی دوسری گواہی ایوب خان کی کابینہ کے ایک وزیر اور سابق جسٹس منیر صاحب نئ اپنی کتاب فرام جن کی وجہ شہرت بطور جج نظریہ ضرورت پر ان کا فیصلہ تھا اس ویڈیو کلپ میں دونوں کتابوں کے اقتباسات شامل ہیں جنہیں سن کر آپ اپنا نتیجہ آپ خود اخذ کر سکتے ہیں۔
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
