پادگرد
کاور چاند ہتھیلی پر تحریر عبدالباسط
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

چاند ہتھیلی پر تحریر عبدالباسط

۹ خرداد ۱۴۰۲ · 11 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

چاند ہتھیلی پر ، ایک خوبصورت سفرنامہ جو قاری میں عزم ہمت ولولہ اور جوش پیدا کرتا ہے ۔ ہم لوگوں میں اکثر اگر کسی کے پانوں میں موچ یا کمر میں چمک آجائے تو ہم سب سے اپنی پریشانیوں کا اظہار کرتے ہیں گھومنا پھرنا ملنا جلنا سب موقوف ہو جاتا ہے مگر عبداللباسط صاحب ایک مثال ہیں کہ بی ایس سی کرنے کے بعد میڈیکل ریپریزینٹیو کی ملازمت کر رہے تھے کہ پاؤں میں رسولی کے باعث ان کی ٹانگ گھٹنے کے اوپر سے کاٹ دی گئی ۔ جب پہلی بار باپ نے ابیٹے کو بیساکھی پر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی کو اس حال میں دیکھ باپ کو کتنا صدمہ ہوا ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ مگر عبدالباسط صاحب کا تو اس حادثے کے بعد عزم مزید جوان ہوگیا یہ حادثہ 1992 میں ہوا تھا اور وہ انیس سو پچانوے میں وہ پہلی بار پاکستان کے شمالی علاقے سیر کو ا گئے پھر تو ان میں جو شوق سفر پیدا ہوا تو شمالی علاقہ جات کی وادی وادی گھوم کر دیکھ لی ۔ ایک طرف وہ کاغان ناران چترال کیلاش گلگت کشمیر اسکردو کی دور دراز کی وادیوں میں گھومتے رہے کبھی دوستوں کے ساتھ لانچ کا طویل سفر اس لیئے کیا کہ دور دراز کے ساحل پر ایک سنسان جزیرے پر رات گزار سکیں وہاں مشرق سے سورج کو ایسےطلوع ہوتے دیکھا جیسے سمندر سے نارنجی گیند ابھر رہی ہو۔وہاں سے آہستہ دیبل کہ بندرگاہ تھا پہنچے دیبل کے کھنڈرات سے ہوتے ہوئے سسی کے بھنبھور جا پہنچے ۔عبدالباسط صاحب نے سمندر کے حسن کو بھی دیکھا اور پہاڑی چوٹیوں کی بلندیوں کو سر بھی کیا ۔ انہوں نے اپنے قلم سے فطرت کی تصویر کشی شروع کر دی کرونا کے باعث 2015 میں اسکردو کا سفر آخری تھا مگر انہوں نے 2022 سے اپنا سفر نامہ لکھںا شروع کردیا عبدالباسط صاحب کو اپنے اس سفرنامے کا عنواں بھی سردی کی شام جھیل سیف الملوک پر ملا جہاں انہوں نے تصور میں چاند کو جھیل میں ڈوبتے دیکھ کر یہ گیت گنگنانا شروع کر دیا کہ رات کی ھتھیلی پر چاند جگمگاتا ہے اس کی نرم کرنوں میں تم کو دیکھتا ہوں تودل دھڑک سا جاتا ہے دل دھڑک سا جاتا ہے تم کہاں سے آئی ہو ؟ کس نگر کو جاؤ گی سوچتا ہوں میں حیراں چاند جیسا یہ چہرہ رات جیسی زلفیں یہ جگائیں سو۔ ارماں اک نشہ سا آنکھوں میں دھیرے دھیرے چھاتا ہےرات کی ھتھیلی پر چاند جگمگاتا ہے

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.