پادگرد
کاور باتیں ہماری یادرہیں گی
ذکر کتاب اردوپاڈکاسٹ

باتیں ہماری یادرہیں گی

۲۵ خرداد ۱۴۰۲ · 10 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

باتیں ہماری یاد رہیں گی جناب ثوبان امتیازی صاحب کی ایک خوبصورت تصنیف ہے اس کتاب میں ثوبان امتیازی صاحب اپنی اور اپنے احباب کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات بہت دلچسپ انداز میں بیان کیئے ہیں ان قصوں میں سے ایک قصے کا انتخاب آج کے اس پروگرام میں شامل ہے باتیں ہماری یاد رہیں گی پر ایک خوبصورت تبصرہ محترم رفیع الزماں زبیری صاحب نے کیا تھا جو روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوا تو جسے نیچے نقل کرہا ہوں رفیع الزماں زبیری صاحب اور روزنامہ ایکسپریس سے شکریئے کے ساتھ منقول زندگی میں عموماً کچھ واقعات ایسے پیش آتے ہیں جو بھلائے نہیں جاتے۔ زندگی میں عموماً کچھ واقعات ایسے پیش آتے ہیں جو بھلائے نہیں جاتے۔ ضروری نہیں کہ ان کا تعلق ہماری ذات سے ہی ہو، بعض واقعات دوسروں کے بھی ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ ثوبان امتیازی کی کتاب ’’باتیں ہماری یاد رہیں گی‘‘ میں کچھ ایسے ہی واقعات کا ذکر ہے۔ ثوبان اردو زبان اور ادب میں ایم اے ہیں، راولپنڈی کے گورڈن کالج میں اردو کے استاد رہے ہیں۔ قانون بھی پڑھا اگرچہ ملازمت بینک میں کی ہے اور اسی سلسلے میں لندن میں رہے ہیں۔ ثوبان امتیازی لکھتے ہیں ’’میری والدہ بڑی شفیق اور نرم دل تھیں۔ جو ملتا تھا ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ اپنے ہوں یا غیر کے سب بچوں پر جان چھڑکتی تھیں۔ آخر عمر میں بینائی سے محروم ہو گئی تھیں۔ ایک آنکھ سے جس کا آپریشن ہوا تھا، دھندلا دھندلا نظر آتا تھا۔ بس اسی سے کام چلاتی تھیں۔‘‘ 1956ء میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ حج پر گئیں۔ ایک دن طواف کر کے جب وہ ایک طرف جا کر بیٹھیں تو دل میں ہوک اٹھی کہ حجر اسود کا بوسہ دوں۔ میاں سے کہنے لگیں ’’مجھے حجر اسود کا بوسہ تو دلوا دو۔‘‘ وہ چیخ کر بولے ’’تم آنکھوں سے معذور ہو۔ اتنا رش ہے۔ میں کیسے تمہیں حجر اسود کا بوسہ دلوا دوں۔‘‘ چپ ہو گئیں اور دل ہی میں کہنے لگیں ’’اے میرے اللہ! تُو نے مجھے اتنی دور سے اپنے گھر بلایا ہے۔ مجھ نابینا، معذور ور بوڑھی عورت کو کسی طرح حجر اسود کا بوسہ تو دلوا دے۔‘‘ ابھی یہ دعا دل سے نکلی ہی تھی کہ ان کے میاں کی آواز آئی ’’چلو چلو۔۔۔ اٹھو! ایک صاحب کہہ رہے ہیں کہ وہ حجر اسود کا بوسہ دلوا دیں گے۔‘‘ یہ سن کر وہ خوش ہو گئیں، جلدی سے اٹھیں اور تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے اپنے شوہر کا ہاتھ پکڑ کر ایک صاحب کے پیچھے چل پڑیں۔ وہ صاحب عربی میں کچھ کہتے ہوئے لوگوں کو ہٹا رہے تھے اور ہمارے لیے راستہ بنا رہے تھے۔ آخر ان صاحب نے انھیں حجر اسود کا بوسہ دلوا دیا اور واپس لا کر اسی جگہ بٹھا دیا۔ پھر وہ غائب ہو گئے۔ نہ جانے کون تھے، کہاں سے آئے اور کہاں چلے گئے۔ مرزا یوسف بیگ ثوبان امتیازی کی بیگم کی ایک بہت پیاری سہیلی رضوانہ کے شوہر تھے۔ لندن میں ایک مشترکہ دوست ڈاکٹر عرفان کے ہاں، ان کی دعوت ہوئی۔ وہاں عمرہ کے لیے ان کے سعودی عرب جانے کا ذکر نکل آیا۔ مرزا یوسف بیگ کہنے لگے، لو مجھ سے اس کا احوال سنو۔ ہوا یوں کہ مرزا یوسف اپنی ضعیف والدہ کو ان کے انکار کرنے کے باوجود کراچی سے واپس لندن آتے ہوئے اپنے ساتھ لے آئے۔ کچھ عرصہ تو وہ مطمئن رہیں اور پھر تنہائی اور موسم سے اکتا کر کراچی واپس جانے پر اصرار کیا۔ مرزا پہلے تو بہانے کرتے رہے پھر آخر تیار ہو گئے۔ کہنے لگے ’’اماں! میں تمہیں عمرہ کرواتے ہوئے واپس کراچی لے جاؤں گا۔‘‘ ان کی والدہ خوش ہو گئیں۔ مرزا نے اپنا اور والدہ کا پاسپورٹ سعودی سفارت خانے میں جمع کرا دیا، چھٹی کی درخواست بھی اپنے دفتر کو دے دی۔ چند دن میں ویزے لگ کر پاسپورٹ مل گئے اور چھٹی بھی منظور ہو گئی۔ اب یوسف مرزا نے مصری ایئرلائن سے دو سیٹیں لندن، جدہ، کراچی کے لیے بک کرائیں، اور والدہ کو لے کر روانہ ہو گئے۔ جہاز لندن سے اڑ کر قاہرہ پہنچا۔ وہاں سے انھیں دوسرے جہاز سے جدہ جانا تھا۔ جب وہ مقررہ وقت پر چیک اِن کاؤنٹر پر پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ ان کے ویزوں کی میعاد ختم ہو گئی اور وہ سعودی عرب نہیں جا سکتے۔ مرزا صاحب حیران ہو گئے۔ بقول شخصے ان کے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی۔ اب وہ اپنی والدہ کے پاس آئے اور ان سے کہا ’’اماں! تم یہیں بیٹھی رہنا، کہیں نہیں جانا، میں بس یوں گیا اور یوں آیا۔‘‘ ان کی والدہ نے پوچھا ’’تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’سعودی عرب کے سفارت خانے نیا ویزا لگوانے، کیونکہ پرانا ویزا ختم ہو گیا ہے۔‘‘ انھوں نے دیکھا، ان کی ماں یہ سن کر متفکر ہو گئیں۔ کہنے لگیں ’’بیٹا! اپنا خیال رکھنا۔‘‘ یوسف نے پوچھا ’’کیوں اماں؟‘‘ کہنے لگیں ’’بیٹا! یہ مصر ہے اور یہاں کے لوگ بہت خراب ہوتے ہیں۔ تجھے پتہ نہیں کہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کیا ہوا تھا اور بیٹا! تیرا نام بھی یوسف ہے۔ کہیں تجھے بھی کوئی بہلا پھسلا کر کسی اندھے کنوئیں میں نہ پھینک دے۔‘‘

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.