
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
جیسا کہ آپ کو قسط نمبر 1 میں بتایا تھا کہ ذکر کتاب پر اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے مصنفین کے حوالے سے ،ناشرین کے حوالے سے اور تاجران کتب کے حوالے سے۔ دیکھا جائے تو ان تینوں کے علاؤہ ایک طبقہ اور بھی ہے جس کا کتاب کی صنعت سے گہرا تعلق ہے وہ ہے کتاب کے قارئین ۔ یعنی وہ طبقہ جو کتابیں پڑھتا ہے اور خرید کر پڑھتا ہے ۔اس کے بھی مفادات کتابی صنعت سے وابستہ ہیں یعنی اس نے جو کتاب خریدی تو کیوں خریدی اور کتاب خریدنے کے بعد اس نے کیا حاصل کیا اس کتاب سے جو کچھ ملا وہ اس کی توقع کے مطابق تھا یا اسے اپنی توقع سے کم یا زیادہ لطف آیا ذکرِکتاب پر قارئین کتب کے تاثرات معلوم کرنے کے لیئے ہم جو نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں اس کا عنوان ہے "کتابیں جو میں نے پڑھیں" ہم اس کا آغاز کررہے ۔محمود احمد صاحب کے ساتھ کتابوں کے بارے میں گفتگو سے ۔ محمود صاحب کو لکھنے سے زیادہ پڑھنے کا شوق ہے کسی زمانے میں آپ کے مضامین اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا کرتے تھے مگر آپ کی کوئی کتاب باقاعدہ طور پر شائع نہیں ہوئی ہے ۔ آپ کو زیادہ شوق ہے ان لوگوں کی آپ بیتی اور سوانح عمری پڑھنے میں جو مختلف شعبوں میں ممتاز ہوئے جن میں شاعر ادیب سیاستدان وغیرہ شامل ہیں ۔ محمود صاحب اس گفتگو کا آغاز کر رہے ہیں شیر باز خان مزاری کی دو سوانح عمری سے ،جس میں ایک اردو زبان میں ہے جس کا نام ہے " شیر باز خان مزاری - ایک عہد ساز جمہوری شخصیت کا زندگی نامہ " جو سعید خاور صاحب نے تحریر کی دوسری سوانح انگریزی زبان میں ہے۔ جس کا نام ہے جس کا عنوان ہے۔ Sheebaz Khan Mazari , A journey to disillusionment ان دونوں سوانح کے مطالعے سے کیا اخذ کیا اس کا ذکر کریں گے محمود صاحب تین قسطوں کہ اس میں پروگرام میں اس سلسلے کا پہلا پروگرام جو شیر باز خان مزاری کے خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی کے بارے میں تھا آپ پہلے ہی سن چکے ہیں جس کا لنک ہیں آج اس سلسلے کا دوسرا پروگرام پیش خدمت ہے جو شیر باز خان مزاری صاحب کی سیاسی زندگی کے پہلے دور کے بارے میں ہے جو 1970 سے شروع ہوا جو 1975 تک گیا ۔
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
