
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
"کتابیں کو میں نے پڑھیں" کے حوالے سے پچھلے دنوں آپ نے محمود احمد صاحب کا تبصرہ سنا شیر باز مزاری صاحب کے کے بارے میں ۔ یہ تبصرہ تین قسطوں میں آیا تھا اور بنیادی طور پر محمود صاحب نے شیر باز خان مزاری کی شخصیت کا جائزہ لیا تھا ان کی دو سوانح عمری کہ روشنی میں اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب محمود احمد صاحب نے انتخاب کیا ہے شورش کاشمیری صاحب کا اور وہ ان کی شخصیت کا جائزہ لیں گے ان کتابوں کی روشنی میں جو شورش کاشمیری نے خود لکھی یا ان کے۔ بارے میں لکھی گئی تھیں محمود احمد صاحب کا کہنا ہے کہ عصر حاضر میں جو خطیب گزرے ہیں ان میں بڑے نام مولانا ابوالکلام آزاد , بہادر یار جنگ ۔عطا اللہ شاہ بخاری ، مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں اپنے وقت کے بڑے خطیب اور بڑے صحافی تھے اس گفتگو کی پہلی قسط میں۔ محمود صاحب کتابوں کی روشنی میں شورش کاشمیری کے ابتدائی ایام کا جائزہ لیں گے
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
