
باب 8-2. ’’صرف زبان سے کہہ دے‘‘ ( متی۸:۵۔۱۰)
۲۵ آبان ۱۴۰۲ · 37 دقیقه
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
جب کبھی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے والے اکٹھے ہوتے ہیں ، تو ہمارے لئے ہر دن خوشی کادن ہے ۔ جب ہم سوچتے ہیں کیسے خُدا ہمارے گناہُوں کو مٹا چکا ہے اور ایک بار پھر پانی اور رُوح کی خوشخبری پر غوروخو ض کرتے ہیں ، تو ہم سب خوشی سے مسکراتے ہیں۔ جس طرح آج کے صحیفانہ حوالے میں صوبیدار نے یسوعؔ پر اپنے مضبوط ایمان کا ، یہ کہتے ہُوئے اِقرار کِیا ، بلکہ صرف زبان سے کہہ دے تو میرا خادم شفا پاجائیگا ۔ ‘‘ کلامِ مقدس میں ایمان کے لوگ موجود ہیں جنھوں نے صرف خُدا کے کلام پر ایمان بھی رکھا اور خُداوند کی پیروی کی ۔ مبارک ہیں وہ جو خُدا کے کلام پر سچا ایمان رکھتے ہیں ۔ اور اِس صوبیدار کا ایمان ہمارے دَور میں سے اُن کے ایما ن جیسا ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں ۔ صوبیدار نے اپنے نوکروں میں سے ایک پر جو بیمار ہو گیا تھا ترس کھایا ، اور وہ یسوعؔ کو ڈھونڈنے نکلا اور اُس سے خادم کی شفا مانگی ۔ اور یسوعؔ نے اُس کی درخواست کا جواب دیا ۔ جب ہم کلامِ مقد س سے اِس حوالے کا معائنہ کرتے ہیں ، تو ہم احساس کر سکتے ہیں کہ صوبیدار کا ذہنی نظریہ واحد تھا جس نے یسوعؔ پر خُدا کے بیٹے کے طورپر ، اوراِسی طرح بذاتِ خود خُدا پر ایمان رکھا ۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اُس نے یسوعؔ پر اصل خُدا ہونے کا ایمان رکھا جس نے مُردوں کو زندہ کِیا اور اپنے کلام کے ساتھ کائنات کو پیدا کِیا ۔ ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں صوبیدار کا ایمان محض کتنا عظیم تھا ۔ https://www.bjnewlife.org/ https://youtube.com/@TheNewLifeMission https://www.facebook.com/shin.john.35
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
