
باب 8-1. رُوحانی کوڑھیوں کی شِفا (متی۸:۱۔۴)
۲۵ آبان ۱۴۰۲ · 58 دقیقه
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
کہتے ہیں کہ ایک کوڑھی مشکل سے کوڑھ کی کسی خاص علامت کو محسوس کرتا ہے جب تک تین سال گزر نہیں جاتے جب پہلی بار اُس پر وائرس نے اثر کِیا تھا ۔ لیکن چوتھے سال سے ، بعض حقیقی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں ۔ اور مزید تین سال اور لگتے ہیں کہ وہ اور زیادہ اپنی بیماری کو دوسروں سے چھپا نہیں سکتا ، جونہی اِس کی علامات مکمل طورپر ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ کوڑھ کی فطرت ہے ۔ آج کا صحیفانہ حوالہ یسوعؔ کے ایک کوڑھی کو شفا دینے کو بیان کرتا ہے ۔ اِس حوالہ میں بیان کِیا گیا واقعہ حقیقتاً واقع ہُوا ، اور اِس کی بدولت ، خُد ا ہمارے گناہُوں کی فطرت ظاہر کر رہا ہے ، اور وہ ہمیں سچائی بھی بتا رہا ہے کہ وہ مکمل طور پر ہمارے گناہُوں کے اِس مسئلے کو حل کر چکا ہے ۔ آج کے حوالہ میں کوڑھی نے اپنے آپ کو نہیں چھپایا بلکہ یسوعؔ کے سامنے آیا جیسے وہ چاہتا تھا اور اُسے شفا دینے کے لئے اُس سے اِلتجا کی ، کیونکہ وہ دل سے اپنی بیماری سے شفا پانے کی خواہش رکھتا تھا ۔ یہ کوڑھی ایمان رکھتا تھا کہ یسوعؔ اُسے کسی بھی بیمار ی سے شفا دے سکتا تھا ، اور یعنی کوئی دوسرا نہیں بلکہ یسوعؔ اُسے اُس کی بیماری سے شفا دے سکتا تھا اور اُسے پاک کر سکتا تھا ۔ یسوعؔ نے اِس کوڑھی کا ایمان دیکھا اور اُس نے اُس کی خواہش پوری کی ، اُسی طرح جس طرح بعد میں صوبیدار کی صورتِ حال میں ہے ۔ ہمیں یہاں ذہن میں رکھنا ہے یسوعؔ واقعی کیاشفا دینا چاہتا تھا جسمانی بیماری نہیں ، بلکہ گناہ کی بیماری تھی۔ https://www.bjnewlife.org/ https://youtube.com/@TheNewLifeMission https://www.facebook.com/shin.john.35
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
