پادگرد
کاور باب 6-3. خُداوند میں اپنے دِلوں کے ساتھ زندہ رہیں (متی۶:۲۱۔۲۳)
مؔتی کی انجیل پر پیغامات - کب ایک مسیحی خُداوند کے ساتھ شخصی گفتگو کر سکتا ہے

باب 6-3. خُداوند میں اپنے دِلوں کے ساتھ زندہ رہیں (متی۶:۲۱۔۲۳)

۲۵ آبان ۱۴۰۲ · 21 دقیقه

شنیدن و نگه‌داشتن این اپیزود

پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحه‌های دیگر هم ادامه پیدا می‌کند.

برای خواندن و مرور دوباره

گفت‌وگو را به متن همراهت تبدیل کن

متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.

دریافت متن کامل اپیزود

کتابخانه و بازخورد

برای شناخت بهتر پیش از شنیدن

این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است

در اپیزودهای بررسی‌شده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصل‌های قابل پخش و پرسش‌های مهم را از متن اپیزود استخراج می‌کند.

تحلیل این اپیزود

تکمیل این اپیزود

اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازه‌ای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی می‌شوند.

متن منتشرشده توسط پادکستر

توضیحات اپیزود

اِس لئے ، ہم دوسروں تک پانی اور رُوح کی اِس خوشخبری کو پھیلانے کی حتیٰ کہ زیادہ خواہش رکھتے ہیں ۔ جب ہم اپنے دِل خُداوند کے سامنے اُنڈیلتے ہیں ، اور اُس کے راستباز کام نے یعنی خُداوند نے ہمارے گناہُوں کو مٹا دیا ، توہمارے دِل روشن ہوتے ہیں ، اور ، نتیجہ کے طورپر ، بہت ساری جانیں نجات حاصل کرتی ہیں۔ جب ہم خُداوند کے بارے میں سوچتے ہیں اور ایمان کے ساتھ اُس کا شکر کرتے ہیں، تو ہمارے دِل رُوحانی طورپر نم دار ہو جاتے ہیں ۔ یہ ہے کہ وہ روشنی میں رُوحانی طورپر نجات کی برکت کی کثرت کے ساتھ نم دار ہو جاتے ہیں ۔ تب، ہمارے دِل راستباز، اچھے ، اور خُداکی آنکھوں میں خوبصورت بن جاتے ہیں ، اور وہ راستباز کام کرنے کے لئے بڑی خواہشات رکھنے تک پہنچتے ہیں ۔ ہم اپنے دِل تاریکی میں یا روشنی میں چھوڑ سکتے ہیں ۔ ہمیں اپنے دِل کہاں چھوڑنے چاہیے ؟ یقیناًکوئی غلطی موجود نہیں ہے کہ ہمیں اُس میدان میں اپنے دِل لگانے کی ضرورت ہے جہاں خُداوند ہمارے گناہُوں کو مٹا چکا ہے ۔ مزید برآں، چونکہ ہمارے خُداوند نے نہ صرف ہمارے گناہُوں کو مٹایا ، بلکہ ہمیں خُدا کے بیٹے بھی بنایا ، ہمیں یقیناًاُس کی آسمانی بادشاہت پر اپنے دِل اُنڈیلنے چاہیے۔ https://www.bjnewlife.org/ https://youtube.com/@TheNewLifeMission https://www.facebook.com/shin.john.35

نظرها

هنوز نظری نوشته نشده.