
"We can thwart attempts on social cohesion through unity", Community reaction to Bondi attack - یہ ایک کمیونیٹی پر نہیں بلکہ آسٹریلیا کی قومی یک جہتی ہر حملہ ہے: بونڈائی حملے پر آسٹریلین کمیونٹی کا ردِعمل
۲۵ آذر ۱۴۰۴ · 6 دقیقه
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
14 دسمبر کو بونڈائی میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے پورے آسٹریلیا کو رنج و غم میں مبتلا کردیا۔ مسلم کمیونیٹی اور رہنماؤں نے نہ صرف اس حملے کی پرُ زور مذمت کی بلکہ متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس افسوس ناک واقعے پر ردِعمل جاننے کے لیے ہم نے جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے ممتاز آسٹریلین مسلمانوں سے گفتگو کی، جن میں نیو ساؤتھ ویلز لیبر پارٹی کے رکن، سابق ایم ایل سی اور نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ کی قانون ساز کونسل کے سابق اسسٹنٹ صدر شوکت مسلمانی، پاکستان کے سابق کنوسلر جنرل محمد اعظم ، Helping ACT کے بانی و صدر محمد علی، اور Australian Muslim Times (AAMUST) کے ایڈیٹر اِن چیف ضیاء احمد شامل ہیں۔ - 14 دسمبر کو بونڈائی میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے پورے آسٹریلیا کو رنج و غم میں مبتلا کردیا۔ مسلم کمیونیٹی اور رہنماؤں نے نہ صرف اس حملے کی پرُ زور مذمت کی بلکہ متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس افسوس ناک واقعے پر ردِعمل جاننے کے لیے ہم نے جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے ممتاز آسٹریلین مسلمانوں سے گفتگو کی، جن میں نیو ساؤتھ ویلز لیبر پارٹی کے رکن، سابق ایم ایل سی اور نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ کی قانون ساز کونسل کے سابق اسسٹنٹ صدر شوکت مسلمانی، پاکستان کے سابق کنوسلر جنرل محمد اعظم ، Helping ACT کے بانی و صدر محمد علی، اور Australian Muslim Times (AAMUST) کے ایڈیٹر اِن چیف ضیاء احمد شامل ہیں۔
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
