
Wali Ahadi’s story: Why did the news of his police job shock some in his community? - ولی احدی کی کہانی: پولیس میں ملازمت ملنے کے خبر سن کر کمینوٹی کے کئی لوگ شاک میں آگئے!
۱۴ اردیبهشت ۱۴۰۵ · 26 دقیقه
شنیدن و نگهداشتن این اپیزود
پخش را شروع کن؛ هنگام رفتن به صفحههای دیگر هم ادامه پیدا میکند.
برای خواندن و مرور دوباره
گفتوگو را به متن همراهت تبدیل کن
متن کامل و خوانای این اپیزود در Word و PDF، همراه با نقشهٔ تصویری موضوعات.
کتابخانه و بازخورد
برای شناخت بهتر پیش از شنیدن
این اپیزود هنوز بررسی عمیق نشده است
در اپیزودهای بررسیشده، پادگرد خلاصه، محورهای گفتگو، فصلهای قابل پخش و پرسشهای مهم را از متن اپیزود استخراج میکند.
تحلیل این اپیزودتکمیل این اپیزود
اگر مهمان یا اسپانسری جا افتاده، از فهرست موجود انتخاب کن یا نام تازهای پیشنهاد بده. پیشنهادها بعد از بررسی مدیر عمومی میشوند.
متن منتشرشده توسط پادکستر
توضیحات اپیزود
For some migrant communities, perceptions of the police force are shaped by experiences in other countries, where policing may be viewed with mistrust, influencing how the role is understood in Australia. Constable Wali Ahadi, who speaks five languages, reflects this change. His work with the New South Wales Police shows how cultural understanding plays out on the ground. Superintendent Robert Toynton outlines efforts to broaden access, while community liaison officer Reema Al Haj shares insights into building trust with multicultural communities. - تارکینِ وطن میں آسٹریلیا کی پولیس فورس میں ملازمت کا رحجان کم ہے تاہم تبدیلی آرہی ہے۔ اور اس کی ایک مثال کانسٹبل ولی احدی ہیں جو پانچ زبانیں بولتے ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس میں ولی کی کہانی مختلف ثقافتوں کے ساتھ کام کرنےکے عملی تجربے کو بیان کرتا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کےسپرنٹنڈنٹ رابرٹ ٹوئنٹن بتاتے ہیں کہ مواقع کو مزید وسیع کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کمیونٹی لائژن افسر پولیس ریما الحاج کثیر الثقافتی کمیونٹیز کے درمیان تعلق پر روشنی ڈالتی ہیں۔ اس پوڈ کاسٹ میں سنئے کہ عملی سطح پر پولیس فورس میں ملٹی کلچرل کمیونیٹی کی شمولیت کا کیا منظر نامہ ہے اور یہ شمولیت کیوں اہم ہے۔
نظرها
هنوز نظری نوشته نشده.
